صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 77
91 جواب مباحثہ تحریری ہونا تھا اور موضوع حیات و وفات سیٹھ مقرر ہوا تھا مگر رداری صاحب سارا وقت حدیث قرآن پر مقدم ہے ثابت کرتے رہے کیونکہ قرآن سے دلائل پیش نہ کر سکتے تھے۔بہت حیل و محبت کی مگر بالآ خہ ناکام رہے۔سوال ۲۴۲ اللہ میں تحریر فرمودہ ازالہ اوہام کا خاص موضوع کیا تھا ؟ جواب اپنے دعاوی کی تشریح کے علاوہ خاص طور پہ قرآن پاک کی نہیں آیات سے دفات مسیح ثابت فرمائی۔سوال ۲۴۳ لفظ توفی کے بارے میں ایک ہزار روپے کا انعامی اشتہار کیا ثابت کرنے والے کو دیا جاتا ؟ جواب اگر کوئی قرآن کریم یا کسی حدیث رسول اله صل للہ علیہ وسلم یا قدیم وجدید عربی ٹر پھر سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی بہت میں جو ذی روح کی نسبت استعمال کیا گیا ہے اور قبض روح اور وفات دینے کے علاوہ قبض جسم کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔سوال سے ۲۴۴ ازالہ اوہام میں آپ نے دعوئی فرمایا کہ مسیح و مہدی ایک ہی وجود ہیں۔اس کا استدلال کسی حدیث میں موجود ہے ؟ جواب لا الْمَهْدِي إِلَّا عِیسٰی مسیح کے سوا کوئی مہدی نہیں سوال ۲۴۵ ۲۰ اکتو بر سر کو جامع مسجد دہلی میں کیا واقعہ پیش آیا ؟ جواب مولوی نذیر حسین صاحب کے اشتعال پر جلسہ میں آپ کو قتل کر دینے کا پروگرام بنا۔پانچ ہزار افراد چھریوں ، پتھروں سے لیس تھے۔معقولیت سے بحث اور قسم کھانے کی بجائے الٹی سیدھی باتوں میں وقت ضائع کرنے لگے عوام میں اشتعال پھیل رہا تھا۔پولیس افسر نے حکم دیا کہ مجمع منتشر کر دو۔اس طرح دلی میں خدا تعالیٰ نے اپنی خاص حفاظت فرما کہ حضور کو سنجریت واپس پہنچا دیا۔سوال ۲۴۶ دسمبر ان ار میں الحق دہلی کے نام سے مباحثے کی جو روئیداد شائع ہوئی۔وہ مباحثہ کس کے ساتھ ہوا تھا ؟