صد سالہ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 74 of 443

صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 74

AA دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزه ورد بنائے گا۔چہارم یہ کہ عام حلق اللہ کو عموما اور مسلمانوں کو خصوصا اپنے نفسانی جوشوں کے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے پنجم : یہ کہ ہر حال رینج اور راحت اور عمر اور لیسر اور نعمت اور بلائیں خدا کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضاء ہوگا۔اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔ششم ریہ کہ اتباع رسم اور مشابہت ہوا و ہوس سے باز آ جائے اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر قبول کر لے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر ایک راہ میں دستور العمل قراردے گا۔مقتم در یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکیتی سے زندگی بسر کرے گا۔ہشتم ، یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنے ہر ایک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔ہم وہ یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔دیم : یہ کہ اس عاجز سے محض الله باقرار اطاعت در معروف با ند ھو کر اس پر یا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلی درجے کا ہو گا کہ اس کی نظر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو ؟ سوال ۲۲۹ آپ مارچ ۱۸۵ء کو لدھیانہ تشریف لے گئے۔اس سفر میں کی خاص کام ہوا ؟ جواب لدھیانہ سے ایک اشتہار دیا جس میں بیعت کے اغراض و مقاصد i