صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 64
جواب منشی اندر من مراد آبادی نے اس دعوت کے جواب میں سر بیرا سنگھ سی ایس آئی مہاراجہ نام کے اشارہ پر پہلے نا بجھا اور پھر لاہور سے حضرت کو لکھا کہ وہ آسمانی نشانوں کو دیکھنے کے لئے ایک سال تک ٹھہر نا منظور کرتے ہیں مگر اس شرط پر کہ سات دن کے اندر اندر جو نہیں سو روپیہ ان کے لئے سرکاری بینک میں بطور پیشگی جمع کرا دیا جائے۔سوال ۱۹۷ حضرت اقدس (آپ پر سلامتی ہو) نے منشی اندرمن کے مطالبہ کا کیا جواب دیا ؟ حضور نے چند ضروری شرائط کے ساتھ مطلوبہ رقم اپنے ایک مرید کے ہاتھ جواب منشی صاحب کو بھیجوائی۔لیکن رقم ہے کہ احباب وہاں پہنچے تومعلوم ہوا کہ منشی اندر من تو اسی دن جس دن اس نے حضور کو خط لکھا تھا لا ہور سے بھاگ گیا تھا۔سوال ۱۹۸ دوسرا شخص میں نے حضور کی دعوت نشان نمائی کو قبول کرتے ہوئے قادیان آنے پر آمادگی ظاہر کی کون تھا اور حضور نے اس کو کیا جواب دیا ؟ جواب دوسرا شخص پنڈت لیکھرام تھا۔لیکن چونکہ دعوت میں حضور کے مخاطب غیر مذاہب کے چیدہ چیدہ راہنما تھے۔اس لئے حضور نے اس کو لکھا کہ " خط مطبوعہ کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو اپنی قوم میں معزز اور سر بر آوردہ ہیں جن کا ہدایت پانا ایک کثیر طبقہ پر موثر ہوسکتا ہے مگر آپ اس حیثیت اور مرتبہ کے آدمی نہیں ہیں اور اگر میں نے اس رائے میں غلطی کی ہے اور آپ در حقیقت مقتداء و پیشوائے قوم ہیں تو صرف اتنا کریں کہ قادیان، لاہور، پشاور، امرتسر اور لدھیانہ کی آریہ سماج کی طرف سے یہ حلقیہ بیان بھیجوا دیں کہ یہ صاحب ہمارے پیشوا ہیں۔اور اگر اس روحانی مقابلہ میں مغلوب ہو کر نشان آسمانی مشاہدہ کرلیں تو ہم سب بلا توقف حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں گے؟ پنڈت لیکرام نے حضور کی بات کا جواب دینے کی بجائے اخبارات میں حضر بالقدس ر آپ پر سلامتی ہوں کو بد نام کرنے کی مہم شروع کر دی کہ جب میں طالب صادق ہوں تو مجھے نشان دکھانے سے کیوں انکار ہے۔حضور نے لیکھرام کا یہ اصرارہ دیکھتے ہوئے اس کے مطالبے کو منظور فرمایا لیکن ساتھ ہی یہ شرط بھی لگائی کہ جتنی رقم جم جمع کرواتے ہیں اتنی ہی رقم و بھی کسی بہا جن کے پاس جمع کروائے تاکہ نشان دیکھنے کے بعد وہ اسلام قبول کرنے کے وعدہ