صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 65
سے منکر نہ ہو سکے۔لیکن لیکھرام نے اس شرط کو نہ مانا۔لیکھرام کے جاہلانہ رویہ کو دیکھتے ہوئے کچھ عرصہ اس کو منہ لگانا ہی چھوڑ دیا۔لیکن بعد میں لیکھرام کے ایک خط کے جواب میں حضور نے اسے قاریان اگر شرائط طے کرنے کی دعوت دی اس کے بعد گو وہ قادیان تو آیا مگر حضور کی خدمت میں حاضر نہ ہوا البتہ اس نے نہایت شوخی و بے باکی سے حضرت اقدس ر آپ پر کہ سلامتی ہوم سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کر دیا۔آپ لیکھرام کے رکیک اور سوقیانہ حملوں کے باوجود اسے تحقیقی جواب دیتے اور کوشش کرتے رہے کہ لیکھرام دیانتدارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے دعوت نشان نمائی کی طرف آئے۔لیکن اسے جرات نہ ہو سکی۔اور اس آسمانی حد یہ ہے بچنے کی خاطر وہ صرف نشان دکھانے کا مطالبہ دو ہرا دیتا۔سوال ۱۹۹ اگست شداد میں مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین کے مطالبہ پر کر نہیں نشان دکھایا جائے۔حضور نے کیا پیشگوئی فرمائی اور وہ کس طرح پوری ہوئی ؟ جواب حضور نے فرمایا " مرزا امام الدین کی نسبت مجھے الہام ہوا ہے کہ اکتیس اس تک ان پر ایک سخت مصیبت پڑے گی۔یعنی ان کے اہل و عیال میں سے کسی مرد یا کسی عورت کا انتقال ہو جائے گا۔جس سے ان کو سخت تکلیف اور تفرقہ پہنچے گا۔آج ہی کی تاریخ کے حساب سے جو تیس ساون سی ۱۹۲۴ مطابق ۵ اگست ہے ظہور میں آئے گا ، اس پیشگوئی پر بعض ہندوؤں نے بطور گواہ دستخط کئے چنانچہ ایسا ہی واقعہ ہوگیا کہ عین اکتیسویں مہینہ کے در میان مرزا نظام الدین کی بیٹی یعنی مرزا امام الدین کی بھتیجی پندرہ سال کی عمر میں ایک چھوٹا بچے چھوڑ کر فوت ہو گئی۔سوالی ۲۰۰ دار جولائی منشاء کو سُرخی کے چھینٹوں کا کیا نشان دیا گیا ؟ جواب حضرت اقدس نے کشفی حالت میں دیکھا کہ کچھ احکام قضاء و قدر حضرت نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر خدا تعالیٰ کے حضور پیش کئے اور خدا تعالیٰ نے سرخ دوات میں قلم ڈبو کر پہلے اس سرخی کو حضور کی طرف چھڑ کا اور بقیہ سرخی کا فلم کے منہ میں رہ گیا اور اس سے قضاء و قدر کی کتاب پر دستخط کر دیئے۔خدا کی معجز نمائی سے چھڑ کی جانے والی یہ سرخی ظاہر آ بھی حضور کے جسم اور کپڑوں پر نظر آئی۔