صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 36
میرے دامن میں ڈال دیں۔اور وہ ایک قاش میں نے اس نئے زندہ کو دے دی اور اس نے وہیں کھائی۔اور پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹریسی اونچی ہو گئی ہے۔حتی کہ چھت کے قریب جا پہنچی ہے اور میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ کا چہرہ مبارک ایسا جھکنے لگا کہ گویا اس پر سورج اور چاند کی شعائیں پڑ رہی ہیں اور میں ذوق اور وجد کے ساتھ آپ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ رہا تھا اور میرے آنسو بہہ رہے تھے پھر میں بیدار ہو گیا۔اور اس وقت بھی میں کافی رو رہا تھا اور اللہ تعالے نے میرے دل میں ڈالا کہ وہ مردہ شخص اسلام ہے۔اور اللہ تعالے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیوض کے ذریعہ سے اسے اب میرے ہاتھ پہ زندہ کرے گا۔سوال ٩٠ حسب عادت زمانہ جس طرح ضرور تمند اہلکاروں کے پاس حاضر ہو جایا کرتے ہیں۔جب لوگ حضرت اقدس (آپ پر سلامتی ہو) کی رہائش گاہ پر آئے تو آپ کیا فرماتے ؟ جواب اس کے بالکل برعکس جیسا کہ حکام کے گرد ترور تمندوں کا جنگ ہار ہا ہے اور حکام بھی اس خوشامد کو پسند کرتے ہیں۔حضرت اقدس ( آپ پر سلامتی ہو، مالک مکان کے بیٹے بھائی فضل الدین کو بلا کر کہتے کہ "میاں فضل الدین ان لوگوں کو سمجھا دو کہ یہاں نہ کیاکریں اپنا وقت ضائع کیا کریں۔اور نہ میرے وقت کو یہ یاد کیا کریں۔میں کچھ نہیں کر سکتا میں جا کہ نہیں ہوں۔جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے کچہری میں ہی کر آتا ہوں یہ