صد سالہ تاریخ احمدیت — Page 35
۴۵ کا ذکر اور چر چا ہو رہا ہے میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضور کہاں تشریف فرما ہیں۔انہوں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔چنانچہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کہ اس کے اندر چلا گیا اور جب میں حضور کی خدمت میں پہنچا تو حضور بہت خوش ہوئے اور آپ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔آپ کا حسن جمال اور ملاحت اور آپ کی پُر شفقت اور پر محبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے۔اور وہ مجھے کبھی بھول نہیں سکتی۔آپ کی محبت نے مجھے فریفتہ کر لیا۔اور آپ کے حسین وجمیل چہرہ نے مجھے گرویدہ بنالیا۔اس وقت آپ نے مجھے فرمایا اے احمد تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے۔جب میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور وہ مجھے اپنی ہی ایک تصنیف معلوم ہوئی۔میں نے عرض کیا حضور یہ میری ایک تصنیف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی نہ بان میں پوچھا کہ تو نے اس کا کیا نام رکھا ہے۔خاکسار نے موض کیا کہ اس کتاب کا نام میں نے قطبی رکھا ہے۔مرض آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ کتاب حضرت مقدس نبوی کے ہاتھہ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنک اور خوبصورت مہرہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بندر تربونہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کے لئے قاش قاش کرنا چاہا نہ اس قداس میں سے شہید نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مبارک مرفق تک شہد سے بھر گیا۔یہانتک کہ ایک مردہ جو دروازہ سے باہر پڑا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزہ سے نہ ندہ ہو گر اس عاجزہ کے پیچھے کھڑا ہوا اور یہ عاجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا تھا جیسے ایک متغیث حاکم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑے جاہ جلال اور حاکمانہ شان سے ایک زبر دست پہلوان کی طرح کرسی پر جلوس فرمارہے تھے۔پھر خلاصہ کلام یہ کہ ایک قاش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اس عرض سے دی کہ تا میں اس شخص کو دوں جو نئے سرے سے زندہ ہوا اور باقی تمام قاشیں