صبرو استقامت کے شہزادے

by Other Authors

Page 9 of 20

صبرو استقامت کے شہزادے — Page 9

16 15 اور بیٹا عمار نسب ابتدائی ایام میں ہی اس نور سے منور ہو گئے۔اس وقت ابھی مسلمانوں کی تعداد 30-35 سے زیادہ نہ تھی اور یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ کے ذی وجاہت مسلمان بھی قریش کی ستم رانیوں کا شکار تھے تو اس غریب الوطن خاندان کے حالات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔بنومخزوم نے اس خاندان پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی۔بظاہر ان کی زندگی موت سے بدتر بنا دی گئی۔ایک دفعہ اس سارے گھرانے کو تکلیف دی جا رہی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گذر ہوا تو آپ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا: اے آل یاسر ! صبر کرو اور خوش ہو جاؤ کیونکہ تمہاری وعدہ گاہ جنت ہے۔(مستدرک حاکم کتاب معرفة الصحابه ذکر مناقب عمار جلد 3 صفحہ 383مكتبه النصر الحديثه۔رياض) طرح ابراہیم کے لیے بنی تھی۔(طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 353 مطبوعہ ایجوکیشنل پریس کراچی طبع اول 1970ء) حضرت عمار کی پیٹھ پر وہ نشان موت تک باقی رہے۔مگر ان کے ایمان میں کوئی لغزش نہ آئی۔طبقات ابن سعد جلد 3 ص 246) یہی نعرہ ان کے در دزبان رہا۔یہ جان و دل شار محمد کی آن پر اس راہ میں ہر ایک اذیت قبول ہے غزوہ اُحد کے قریب زمانہ میں دس صحابہ کو بے قصور ظالمانہ طور تختہ دار کو چوم لیا پر موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔مگر کسی نے صداقت سے منہ نہ پہلی شہادت جب دشمن اپنی پوری طاقت کے باوجود اس پاکیزہ گھرانے کے موڑا۔ان میں سے ایک صحابی حضرت خبیب نے شہادت سے قبل دو نفل ادا کیے اور یہ پائے ثبات میں کوئی جنبش پیدا نہ کر سکے تو غصہ سے آگ بگولا ہو کر ابو جہل نے حضرت سمیہ کی شرمگاہ میں نیزہ مار کر ان کو شہید کر دیا۔یہ اسلام میں عورت کی پہلی شہادت تھی جو اہل ایمان کو سورج چاند کی طرح روشنی دکھاتی رہے گی۔جلتے انگاروں پر مگر یہ انجام دیکھنے کے باوجود باپ اور بیٹا ایمان پر ثابت قدم رہے۔تھوڑے دنوں بعد حضرت یا سر بھی بوجہ ضعیف العمری کے ان شدائد سے جانبر نہ ہو سکے اور انتقال کر گئے۔حضرت عمار کو قریش دو پہر کے وقت انگاروں پر لٹاتے اور پانی میں غوطے دیتے۔ایک مرتبہ انہیں انگاروں پر لٹایا جا رہا تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا۔آپ نے حضرت عمار کے سر پر ہاتھ پھیر کر یہ دعا کی:- یا نَارُ كُوْنِي بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلَى عَمَّارٍ كَمَا كُنْتِ عَلَى ابْرَاهِيمَ اے آگ ! عمار کے لیے اسی طرح ٹھنڈک اور سلامتی کا موجب بن جاجس شعر پڑھتے ہوئے تختہ دار کو چوم لیا۔لَسْتُ أَبَالِي حِيْنَ أَقْتَلُ مُسْلِمًا عَلى أَيِّ جَنْبِ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَا يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوِ مُمَزَّعِ یعنی جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جاؤں تو مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں کس پہلو پر گرتا ہوں۔میری یہ سب قربانی اللہ کی رضا کے لیے ہے۔وہ اگر چاہے گا تو میرے ریزہ ریزہ اعضاء میں بھی برکت ڈال دے گا۔فُزْتُ بِرَبِّ الْكَعْبَة اسی زمانہ میں ستر صحا بہ کو دھوکہ سے تبلیغ کے بہانے بلایا گیا مگر انتہائی سفاکی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ان کے سردار حضرت حرام بن ملحان کو پشت کی طرف سے نیزہ مارا گیا جو جسم سے پار ہو گیا۔