صبرو استقامت کے شہزادے — Page 10
18 17 جب خون کا فوارہ پھوٹا تو حضرت حرام نے اس سے چلو بھر کر منہ اور سر پر پھیرا اور فرمايا: قُرْتُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔(صحیح بخاری کتاب المغازى باب غزوة الرجيع) حضرت خبیب ، حضرت حرام اور ان کے ساتھیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں۔ان کے عزم اور استقلال نے کئی سعادت مندوں پر گہرے اثرات چھوڑے اور وہ بالآخر آغوش اسلام میں آگرے۔اذان کی سزا حضرت عروہ بن مسعود ثقفی نے 9 ہجری میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوم کی طرف واپس جانے کی اجازت چاہی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آغاز میں انکار کیا مگر ان کے اصرار پر اجازت دے دی۔وہ عشاء کے وقت اپنی قوم کے پاس پہنچے اور جب ان کے قبیلہ ثقیف کے لوگ ان سے ملنے کے لیے آئے تو حضرت عروہ بن مسعودؓ نے انہیں اسلام کی طرف دعوت دی۔مگر انہوں نے حضرت عروہ پر الزام لگائے اور بہت نازیبا کلمات کہے اور واپس چلے گئے۔مگر وہ حضرت عروہ کی موت کا فیصلہ کر چکے تھے۔صبح فجر کے وقت حضرت عروہ نے اپنے گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر اذان دی تو ایک بد بخت وہاں پہنچا اور تیر سے انہیں شہید کر دیا۔(مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 615 كتاب معرفة الصحابه مكتبه النصر الحديثه۔رياض) سچائی کی خاطر حضرت فروہ بن عمرو فلسطین کے علاقہ میں معان اور قرب و جوار میں قیصر روم کے عامل تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو بغیر کسی پس و پیش کے اسلام لے آئے اور حضور کی خدمت میں چند تحائف بھی بھجوائے۔جب قیصر روم کو ان کے اسلام لانے کی اطلاع ہوئی تو انہیں دربار میں بلایا اور قید کر دیا اور جب اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو انہیں صلیب پر لٹکا کر شہید کر دیا مگر حضرت فروہ نے جادہ حق سے ہٹنا گوارا نہ کیا۔(شرح زرقاني على المواهب اللدنيه جلد 4 صفحه 44 مطبع از هریه مصريه طبع اولی 1327ھ) ایک روایت میں ہے کہ وہ قید کی حالت میں فوت ہو گئے تھے۔ان کے مرنے کے بعد انھیں صلیب پر لٹکایا گیا۔(طبقات ابن سعد جلدنمبر 7 صفحہ 435 بیروت 1958ء) ایک ایک عضو کاٹ دیا گیا حضرت حبیب بن زید انصاری صحابی تھے۔مسیلمہ کذاب نے اپنی بغاوت کے زمانے میں انہیں پکڑ لیا اور کہا کیا تم شہادت دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔حضرت حبیب نے فرمایا: ہاں۔پھر اس نے پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔تو آپ نے فرمایا: نہیں۔میں یہ بات سننا بھی نہیں چاہتا اس بات پر کئی دفعہ تکرار ہوئی مگر حضرت حبیب نے اسے رسول ماننے سے اور رسول اللہ کا انکار کرنے سے مسلسل انکار کیا۔اس پر مسیلمہ نے ان کا ایک ایک عضو کاٹ کر انہیں شہید کر دیا۔(سيرة النبى ابن هشام جلد 2 صفحہ 110 مطبع مصطفی البابی الحلبی۔مصر 1936ء) صحابہ کی ان عظیم قربانیوں کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں کھینچا ہے۔فَدَمُ الرِّجَالِ لِصِدْقِهِمْ فِي حُبِّهِمُ تَحْتَ السُّيُوفِ أُرِيقَ كَالْقُرُبَان ان عظیم انسانوں کا خون سچائی سے محبت کی وجہ سے تلواروں کے نیچے قربانی کے جانوروں کی طرح بہایا گیا۔