صبرو استقامت کے شہزادے

by Other Authors

Page 8 of 20

صبرو استقامت کے شہزادے — Page 8

14 13 ہیں اور ابدی عزت کے تاج انہی کے سروں پر رکھے جاتے ہیں۔اس تاریخ کا سب سے روشن باب حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اپنی قربانیوں سے رقم کیا۔ایک طرف مخالفت کی تند و تیز آندھیاں ہیں تو دوسری طرف صبر و استقامت کے پہاڑ ہیں۔بظاہر کمزور اور نا تواں انسان مگر عزم اور یقین میں شیروں کے دل دہلا دیتے ہیں اور بڑی جرات اور پامردی کے ساتھ سر اُٹھا کر اپنے ایمان کا برملا اعلان کرتے چلے جاتے ہیں جو متاع بے بہا ہے ، زندگی کی سب سے قیمتی دولت ہے اور خدا کے حضور سرفرازی کی علامت ہے۔قربانیوں کا نقد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو جن المناک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، ان کے چند نمایاں باب یہ ہیں۔جانیں قربان کیں، تیروں اور تلواروں سے شہید کیا گیا، صلیب دے کر شہید کیا گیا ، جلتے انگاروں پر لٹایا گیا، اُلٹا لٹکا کر نیچے آگ جلا دی گئی ، لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں کھڑا کیا گیا، بھوک اور پیاس میں مبتلا رکھا گیا ، عین دو پہر کے وقت گرم پتھروں پر گھسیٹا گیا ، زدوکوب کیا گیا اور مار مار کر لہولہان کر دیا گیا، جوتیوں سے اتنا مارا گیا کہ پہچانے نہ جاتے تھے ، شیر خوار بچوں کو دودھ سے محروم رکھا گیا، مسلمان ماؤں سے ان کے چھوٹے بچے جدا کر دیے گئے ، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، سوشل بائیکاٹ کیا گیا، ہر قسم کے تعلقات قطع کر دیے گئے ،شوہروں نے مسلمان بیویوں کو طلاق دے دی ، وطن سے بے وطن کیا گیا، مسلمانوں کی محنتوں کا معاوضہ ضبط کر لیا گیا، مقدس حاملہ عورتوں کے حمل گرائے گئے ، نام بگاڑے گئے ، عبادت گاہیں گرادی گئیں، خدائے واحد کی عبادت کرنے سے روکا گیا۔غرضیکہ ہر روز نئے ستم ایجاد کیے گئے۔ہر رات نئے ظلم تراشے گئے۔صبح و شام کو مصائب و آلام کی چکیوں میں تبدیل کر دیا گیا۔زندگی کی ہر گھڑی موت کا الارم سناتی تھی ، ہر سانس زہر ہلاہل تھا۔مگر اے خدا کے شیر و! اے استقامت کے شہزادو! تم نے اذیتوں کے یہ سارے پتھر اپنے پائے استقامت سے روند ڈالے۔تم نے توحید کا پرچم سر بلند کیا تو خدا نے قیامت تک تمہارے نام زندہ جاوید کر دیے۔آج قو میں تم پر فخر کرتی ہیں اور ابدالآباد تک کرتی رہیں گی۔شہادت کے مناظر یہ وہ لوگ تھے جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکراتے تھے۔جن کے لیے ایمان کے مقابل پر یہ فانی دنیا کوئی حیثیت نہ رکھتی تھی۔اسلام لانے کے بعد ان سب نے اپنی جانیں خدا کے حضور پیش کر دی تھیں۔کچھ کو براہ راست شہادت کی نعمت عطا ہوئی اور بہت سے ایسے تھے جو دشمنوں کے ہاتھوں مدتوں زنجیروں میں گرفتار رہے اور مر مر کر جیتے رہے۔آئیے ! پہلے ان جوانمردوں کا تذکرہ کریں جنھوں نے اس دنیا کے بدلے دائمی زندگی قبول کی۔اس باب میں سب سے پہلے حضرت یا سر اور ان کے تمام گھرانے کی غیر معمولی قربانی قابل ذکر ہے۔حضرت عمار کے والد یا سر یمن سے آ کر مکہ میں آباد ہوئے تھے اور ان آل یاسر کے حلیف ابو حذیفہ نے اپنی لونڈی حضرت سمیہ کے ساتھ ان کی شادی کر دی تھی۔جب مکہ میں آفتاب رسالت طلوع ہوا تو حضرت یا سر اور ان کی اہلیہ سمیہؓ