صبرو استقامت کے شہزادے

by Other Authors

Page 13 of 20

صبرو استقامت کے شہزادے — Page 13

24 23 سچ کی طاقت حضرت ابوذر غفاری اسلام لانے سے قبل مخالفین سے اتنے خوف زدہ تھے کہ اپنے قبیلہ غفار سے مکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تلاش میں آئے مگر کسی سے آپ کا پتہ نہ پوچھتے تھے۔یہاں تک کہ حضرت علیؓ نے نیزوں سے شکار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت زینب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ جا رہی تھیں کہ ہبار بن اسود نے حضرت زینب کو نیزہ سے زمین پر گرا دیا۔وہ حاملہ تھیں حمل ساقط ہو گیا۔(زرقانی جلد 3 صفحہ 223) بڑی حکمت سے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا اور آپ نے اسلام قبول کر لیا۔انکار ممکن نہیں حضرت عمر کے اسلام لانے میں ان کی بہن کی استقامت اور مگر اسلام قبول کرتے ہی ایسی شجاعت پیدا ہوئی کہ مسجد حرام میں جا کر بانگ دہل کلمہ توحید کا اعلان کیا تو دشمن ان پر پل پڑے اور مارتے مارتے بے حال کر دیا۔یہاں تک کہ جب وہ بے دم ہو کر زمین پر گر پڑے تو سمجھا کہ ان کا کام تمام ہو گیا ہے۔تب واپس جانے لگے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ مجھے جب ہوش آیا تو میں سر سے پاؤں تک لہولہان ہو چکا تھا۔بعض روایتوں میں ہے کہ جب آپ مرنے کے قریب ہو گئے تو حضرت عباس نے آ کر دشمنوں سے چھڑایا مگر آپ پھر دوسرے دن اسی طرح مسجد حرام میں جا کر توحید کی منادی کرنے لگے تو دشمنوں نے پہلے کی طرح زدو کوب کرنا شروع کر دیا اور حضرت عباس نے اس ظلم و ستم سے نجات دلائی مگر آپ کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی۔(مستدرک حاکم جلد3 صفحه 338-صحیح بخاری کتاب بنیان الکعبه باب اسلام ابی ذر) حضرت عمر کے بہنوئی حضرت سعید بن زید نے بھی بہت تکالیف برداشت کیں۔حضرت عمر ا سلام لانے سے قبل انہیں رسیوں سے باندھ دیتے تھے۔فدائیت کا بڑا دخل ہے۔ان کو جب پتہ لگا کہ ان کی بہن نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ غصہ میں بھرے ہوئے گھر پہنچے اور اپنی بہن کو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مارا مگر اس نے صاف صاف کہ دیا کہ تم جو چاہوکر لو میں تو اسلام لا چکی ہوں اب اس سے کسی قیمت پر انکار نہیں کر سکتی۔(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد الهيثمي جلد 9 صفحه 62 كتاب المناقب باب مناقب عمر) غلامان رسول مسلمان غلاموں اور لونڈیوں نے بھی فدائیت اور جاں فروشی کے نئے نئے باب رقم کیے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں:- ان کو کفار لوہے کی زرہیں پہنا کر سخت دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے مگر دھوپ کی شدت ان کی دینی حرارت اور جوش ایمانی کے سامنے بالکل ناکارہ اور بے حیثیت ہو جاتی تھی اور دشمن ان سے اپنی مرضی کے کلمات کہلوانے میں ناکام رہتا تھا۔(اسد الغابه محمد بن عبدالكريم الجزری جلد 3 صفحہ 32 مكتبه اسلامیه طهران) (صحیح بخاری کتاب الاکراه باب من اختار الضرب) احد احد حضرت بلال کا بھی ان سرفروشوں میں نمایاں نام ہے۔انہیں اللہ کی راہ مقدس خواتین کے نمونے مسلمان مردوں کے شانہ بشانہ خواتین بھی عزم کے اس سفر میں شریک تھیں۔میں اپنے نفس کی کسی تکلیف کی کوئی پرواہ نہ تھی اور اپنی قوم کی نظر میں وہ بالکل بے حقیقت تھے۔کفار ا نہیں لڑکوں کے حوالے کر دیتے جو انہیں مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے مگر بلال کے منہ سے احد احد کی صدا بلند ہوتی رہتی تھی یعنی خدا ایک ہے،