صبرو استقامت کے شہزادے

by Other Authors

Page 12 of 20

صبرو استقامت کے شہزادے — Page 12

22 21 پوچھا یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا یہ طلحہ بن عبید اللہ ہے جو صابی یعنی مسلمان ہو گیا ہے۔ایک عورت ان کے پیچھے غراتی اور گالیاں دیتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔میں نے اس کے متعلق پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ طلحہ کی ماں صعبہ بنت حضرمی ہے۔(التاريخ الكبير جلد 7 صفحہ 421 از امام بخاری۔بیروت) ہوئے گھسیٹ کر مکہ میں لے آئے۔ظلم وستم کا سلسلہ جاری تھا کہ مطعم بن عدی نے آ کر انہیں نجات دلائی۔(سيرة ابن هشام جلد 2 صفحه 91 مطبع البابی الحلبی۔مصر 1936) حضرت عثمان بن مظعونؓ نے اسلام قبول کیا تو دشمنوں کے مظالم سے بے قراری بچنے کے لیے ولید بن مغیرہ کی پناہ میں آگئے۔مگر جب انہوں نے دیکھا جو چاہو کر لو حضرت عمر بن خطاب جیسا جری اور بے باک شخص بھی دشمنوں کے شر کہ دوسرے صحابہ تکالیف برداشت کر رہے ہیں اور میں امن سے پھر رہا ہوں تو انہوں نے سے محفوظ نہ رہا۔انہوں نے اسلام قبول کیا تو ایک شخص جمیل بن معمر نے مسجد حرام میں جا کر اعلان کیا کہ عمر بے دین ہو گیا ہے۔حضرت عمر وہاں پہنچے اور کہا یہ جھوٹا ہے میں نے تو حید کو قبول کیا ہے۔یہ سن کر سب حضرت عمرؓ پر جھپٹ پڑے اور دیر تک ان سے لڑتے رہے حضرت عمرؓ فرماتے تھے:۔تم جو چا ہو کر لو۔اب تو میں یہ دین نہیں چھوڑ سکتا۔(البدايه والنهايه جلد3 صفحه 82 از حافظ ابن کثیر طبع اولی 1966 - مکتبه معارف بيروت) حضرت زبیر بن العوام جب اسلام لائے تو ان کی عمر 8 سال کی تھی۔ان ہر گز نہیں کا چچا انہیں چٹائی میں لپیٹ کر لٹکا دیتا تھا اور نیچے آگ جلا کر ان کی ناک میں دھواں پہنچاتا تھا اور ساتھ کہتا کہ اسلام سے انکار کر دے مگر حضرت زبیر فرماتے: میں کبھی اسلام سے انکار نہیں کروں گا۔(مستدرک حاکم کتاب معرفة الصحابه باب مناقب الزبير جلد3 صفحہ 360-ریاض) گھسیٹے گئے حضرت سعد بن عبادہ نے بیعت عقبہ ثانیہ میں اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کی۔وہاں سے واپسی پر دشمنوں نے پکڑ لیا۔ان کے ہاتھ ان کی گردن سے باندھ دیے، ان کے بال کھینچے، زدو کوب کیا اور سخت اذیت دیتے ولید بن مغیرہ سے کہا کہ تم اپنی پناہ واپس لے لو اور اس کا اعلان مسجد حرام میں کر دیا گیا۔اس واقعہ کے تھوڑے دن بعد ایک مشرک نے ان کی آنکھ پر ایسا مکا مارا کہ ڈیلے سے باہر نکل آئی۔اس پر ولید جو وہاں موجود تھا کہنے لگا کہ اگر تم میری پناہ واپس نہ کرتے تو یہ تکلیف نہ ہوتی تو حضرت عثمان بن مظعونؓ نے فرمایا: تم اس کی بات کرتے ہو میری تو دوسری آنکھ بھی خدا کی راہ میں قربان ہونے کے لیے بے تاب ہے۔(البدایه و النهایه جلد3 صفحه 92 از حافظ ابن كثير طبع اولی 1966-مكتبه المعارف بيروت) کل پھر حضرت عبداللہ بن مسعود نے خانہ کعبہ میں قرآن کریم کی چند آیات بلند آواز سے کفار کو سنائیں تو انہوں نے اس قدر مارا کہ چہرے پر نشان پڑ گئے۔جب دوسرے صحابہ نے ہمدردی کا اظہار کیا تو فرمایا :- اگر کہو تو کل پھر اسی طرح ان لوگوں کو اونچی آواز میں قرآن سناؤں۔(اسد الغابه جلد 3 صفحہ 256 تذکره عبدالله بن مسعود مکتبه اسلامیه طهران حقیقت یہ ہے کہ سچا ایمان دل میں ایک غیر معمولی جرات اور بے خوفی پیدا کر دیتا ہے جو ایک کمزور بے کس کو طاقتور مخالف کے مقابل کھڑا کر دیتا ہے۔اس کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو۔