صبرو استقامت کے شہزادے

by Other Authors

Page 14 of 20

صبرو استقامت کے شہزادے — Page 14

26 25 خدا واحد ہے۔(مستدرک حاکم کتاب معرفة الصحابه جلد 3 صفحہ 284 مكتبه النصر الحديثه۔رياض) حضرت بلال کا آقا امیہ بن خلف ظلم کی انتہا کر دیتا تھا۔عین تپتی دوپہر کے وقت ان کو باہر نکالتا ایک بھاری پتھر ان کے سینہ پر رکھتا اور پھر کہتا: یہ پتھر نہیں ہٹاؤں گا جب تک تو مر نہ جائے یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا انکار کر کے لات اور عڑی کی عبادت نہ کرنے لگے۔حضرت بلال اس کے جواب میں احد احد پکارتے رہتے تھے۔حضرت ابوبکر نے انہیں اس حال میں دیکھا تو خرید کر آزاد کر دیا۔(البدايه و النهایه جلد 3 صفحه 57 از حافظ ابن کثیر طبع اولی 1966_مكتبه معارف بيروت) انگاروں کو ٹھنڈا کرنے والا حضرت خباب بن ارت کا ذکر پہلے گزرا ہے وہ ایک لوہار تھے۔مشرکین انہی کی بھٹی سے انگارے دہکاتے اور انہیں انگاروں پر لٹا دیتے۔یہاں تک کہ جسم سے رطوبت نکل نکل کر ان انگاروں کر سرد کر دیتی۔مگر یہ مرد مجاہد کسی طور پر صداقت سے سرمو انحراف کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا۔(کنز العمال علاؤ الدين على المتقی - جلد 7 صفحه 32 کتاب الفضائل - مطبع دائرة المعارف النظامیه حیدر آباد1314ھ) حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ حضرت خباب کی پیٹھ دیکھی تو فرمایا میں نے کبھی کسی شخص کی ایسی پیٹھ نہیں دیکھی۔حواس کھو بیٹھے حضرت ابو فکیہہ ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔حضرت بلال کے ساتھ اسلام لائے تھے۔آپ صفوان بن امیہ کے غلام تھے۔اسلام لائے تو صفوان آپ کو رسی سے باندھتا اور گرم پتھروں پر گھسیٹتا۔پھر گلے میں کپڑا ڈال کر گھونٹتا۔صفوان کے ساتھ اس کا بھائی اُمیہ بھی شریک تھا جو کہتا تھا اسے مزید عذاب دو۔چنانچہ وہ دونوں یہ سلسلہ جاری رکھتے۔یہاں تک کہ حضرت ابوفکیہہ کے مرنے کا شبہ ہونے لگتا۔تاریخ بتاتی ہے کہ صرف ان کا آقا ہی نہیں سارا قبیلہ ان کے در پئے آزار تھا۔ان کو قبیلے والے سخت گرمی میں نکالتے ، پاؤں میں بیڑیاں ڈالتے ، پھر گرم پتھروں پر لٹاتے اور اوپر وزنی پتھر رکھ دیتے یہاں تک کہ اذیت کی شدت اور سخت گرمی کی وجہ سے وہ اپنے حواس کھو بیٹھتے۔یہ عذاب جاری تھا کہ حضرت ابو بکر نے انہیں صفوان سے خرید کر آزاد کر دیا اور وہ حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے۔(اسد الغابه جلد 5 صفحہ 273 از عبدالکریم جزری مکتبه اسلامیه طهران قيد و بند اور بھوک پیاس عام مار پیٹ کے ساتھ قید و بند اور بھوک پیاس کی اذیت کا سلسلہ بھی بدستور سر پر گرم لوہا حضرت خباب کی مالکن ام انمار و باخت گرم کرتی اور حضرت خباب جاری تھا مگر وہ سرفروش زنجیروں کی جھنکاروں کے ساتھ ساتھ عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ سر کے سر پر رکھ دیتی۔انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے اُم انمار کوسر میں ایک بیماری ہوگئی اور حضرت خباب نے اس کے مظالم سے نجات پائی۔(اسد الغابه جلد 2 صفحہ 98 از عبدالکریم جزری مکتبه اسلامیه طهران) وسلم کے گیت گاتے رہے اور اپنے رب کی رضا اور محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ان کی ہر بھوک اور پیاس کا مداوا تھا۔مسلسل تکلیف دینے کے باوجود بھی جب کفار مکہ نے تاریک گھاٹی کے قیدی دیکھا کہ مسلمان صبر و استقامت سے ان تمام مراحل کو