صبرو استقامت کے شہزادے — Page 11
20 19 مارپیٹ کے مناظر بارگاہ احدیت کے وہ جاں نثار جن کو تاریکی کے فرزند ابدی زندگی کا جام پلانے سے قاصر رہے ان کی زندگیاں تو لمحہ لحہ عذاب تھیں۔مار پیٹ اور جسمانی مظالم کا ایک بازار گرم تھا جس میں ان کے جسم اور عزتیں بلاخوف وخطر پامال کی جارہی تھیں۔مگر ان پر پڑنے والی ہر ضرب ان کے بلند روحانی مقامات کے بگل بجارہی تھی۔اس تشدد اور ظلم سے معزز گھرانوں کے مسلمان بھی محفوظ نہ تھے۔اس لیے حضرت عبدالرحمن بن عوف اور دوسرے صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دفعہ عرض کیا تھا کہ : یا رسول اللہ ! جب ہم مشرک تھے تو معزز تھے اور کوئی شخص ہماری طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا تھا مگر مسلمان ہو کر ہم کمزور اور نا تواں ہو گئے ہیں۔(سنن نسائی کتاب الجهاد باب و جوب الجهاد) ان لوگوں نے بظاہر دنیا کی ذلت قبول کر لی مگر سچائی کا دامن نہیں چھوڑا اور ابدالآباد تک ایک ایسی عزت حاصل کی جس پر کبھی فنا نہیں آئے گی۔منہ سے پہلا جملہ یہ نکلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے۔یہ سن کر قبیلہ کے لوگ واپس چلے گئے مگر آپ بہت اصرار کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حال دریافت کرتے رہے اور جب آپ کے صحیح سالم ہونے کی اطلاع ملی تو والدہ کی منت کر کے ان کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی حالت دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں مگر حضرت ابوبکر عرض کرتے تھے کہ سوائے چہرہ کے زخموں کے اور کوئی تکلیف نہیں۔پھر آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی۔میری والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیں اور ان کے لیے دعا بھی کریں۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ سے وہ اسلام لے آئیں۔(البدايه والنهايه جلد 3 صفحہ 30 از حافظ ابن کثیر طبع اولی 1966 مكتبه معارف بیروت) حضرت ابو بکر کی تبلیغ سے حضرت طلحہ اسلام لائے تو نوفل بن خویلد بن العدویہ نے ان دونوں کو پکڑ لیا۔یہ شخص اسد قریش کہلاتا تھا یعنی قریش کا شیر۔اس نے دونوں کو ایک رسی میں بندھوا دیا اسی لیے ان دونوں کو قرینین بھی کہتے ہیں۔حضرت ابوبکر کے قبیلہ بنو تمیم نے بھی انہیں چھڑانے سے انکار کر دیا۔حضور صلی اللہ قرینین حضرت ابوبکر کا عشق حضرت ابوبکر قریش کے ایک معزز فرد تھے۔اسلام علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے دعا کی: لائے تو انہوں نے برملا اپنے ایمان کا اظہار کیا اور قریش کو بھی دعوت اسلام دی مگر یہ سنتے ہی مشرکین حضرت ابو بکر اور قریبی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور حضرت ابو بکر کو گرا کر بہت مارا۔بد بخت عتبہ بن ربیعہ اپنے مضبوط جوتے سے ان پر وار کرتا رہا اور ان کے چہرے پر اتنا مارا کہ ان کا چہرہ پہچانا نہ جاتا تھا۔بالآخر آپ کے قبیلہ بنو تمیم کے لوگ آئے اور انہوں نے آپ کو دشمنوں سے بچایا۔مگر حالت یہ تھی کہ حضرت ابو بکڑ کے قریب المرگ ہونے میں کسی کو شبہ نہ تھا۔لیکن دن کے آخری حصہ میں جب انہیں ہوش آیا تو ان کے ماں کا اے اللہ ! ہمیں ابن العدویہ کے شر سے بچا۔تب خدا نے ان کی رہائی کے سامان پیدا فرمائے۔(البدايه و النهایه جلد3 صفحه 29 از حافظ ابن کثیر طبع اولی 1966- مكتبه معارف بیروت) حضرت مسعود بن حراش بیان کرتے ہیں کہ میں صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگا رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ ایک نو جوان کو کھینچتے ہوئے لے جا رہے ہیں جس کے ہاتھ اس کی گردن میں بندھے ہوئے ہیں۔میں نے