سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 401 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 401

401 سبیل الرشاد جلد چہارم مگر میری زندگی میں کوئی خاص تبدیلی واقع نہ ہو سکی ، جبکہ بیعت کے بعد میری زندگی میں حقیقی روحانی انقلاب بر پا ہو گیا تھا۔بیعت سے پہلے نماز میرے لئے ایک بالکل اجنبی چیز تھی۔مگر آج یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پنجوقتہ نماز میری زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے۔اور تہجد میں ناغہ کرنا میرے لئے ایک امر محال ہے اور آج میرا دل اس یقین سے پُر ہے کہ جب انسان سچائی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے تو اُس کی منزل اُسے ضرور مل جاتی ہے اور اُسی منزل پر پہنچ کر ہی اُس کی حقیقی روحانی تربیت ہوتی ہے اور اسے ترقی نصیب ہوتی ہے اور یہی وقت دراصل اُس کی قلبی تسکین کا وقت ہوتا ہے۔تو یہ انقلابات ہیں جولوگوں میں، نئے آنے والوں میں پیدا ہورہے ہیں۔پھر ہمارے مشنری کو تو نو، افریقہ سے لکھتے ہیں کہ اور یسو صاحب آرمی میں لیفٹینٹ کی پوسٹ پر تعینات ہیں۔2013ء میں انہوں نے بیعت کی۔وہ اپنی قبولیت احمدیت کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ میری پیدائش مسلمانوں کی عید کے دن ہوئی تھی۔تو میرے مشرک باپ نے دائی سے کہا کہ اس کا مسلمانوں کا نام رکھو۔وہاں افریقہ میں یہ رواج ہے کہ جس دن پیدا ہو اُس دن کا نام رکھ دیتے ہیں یا اُن خصوصیات کی وجہ سے بعض نام رکھے جاتے ہیں۔تو کہتے ہیں بہر حال عید والے دن میں پیدا ہوا، باپ تو میرا مشرک تھا لیکن مسلمانوں کی عید ہورہی تھی۔میرے باپ نے کہا کہ اس کو مسلمان بنانا ہے اس کا مسلمان نام رکھو کیونکہ یہ عید کے دن پیدا ہوا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں بچپن میں میں نے کچھ عرصہ مسجدوں کا رخ کیا مگر ایک دن جمعہ کی نماز کے بعد واپس آ رہا تھا تو چوٹ لگ گئی۔خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے آ رہا ہوں تو ٹھوکر لگنے کا تو سوال ہی نہیں کہ میں گروں اور چوٹ لگ جائے یا کسی بھی ذریعہ سے چوٹ لگے تو اس خیال سے کہ خدا کی عبادت کے بعد بھی ٹھو کر لی تو پھر عبادت کا فائدہ کیا؟ کہتے ہیں میں اسلام کو چھوڑ کر عیسائی ہو گیا اور کبھی ایک چرچ میں جاتا، کبھی دوسرے چرچ میں، اور عیسائیت میں بھی فرقے بدلتا رہتا۔کہتے ہیں میرے مسائل اور بڑھ گئے یہاں تک کہ بیوی سے بھی جھگڑا ہو گیا، سکون برباد ہو گیا۔ہر وقت پریشانیوں میں گھرا رہتا تھا۔کہتے ہیں میرے والدین اور بزرگ تھے۔انہوں نے ہمارے گھر یلو مسائل سلجھانے کی کوشش کی ، بہت میٹنگیں ہوئیں ، پنچائتیں ہوئیں صلح کروانے کی ہر کوشش ہوئی لیکن بیکار، بے فائدہ۔ان حالات میں جماعت کے داعی الی اللہ، محمد صاحب اُن کو ملے۔کہتے ہیں اُن کو میرے حالات کا علم ہوا تو کہنے لگے تم نے تمام نسخے آزما لئے۔مسلمان ہوئے ، عیسائی ہوئے ، مسائل بڑھتے رہے ، مسائل حل نہیں ہوئے۔گھر یلو طور پر بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی۔پنچائتی طور پر بھی سمجھانے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی فائدہ نہیں۔اب تمہیں میں ایک نسخہ بتا تا ہوں۔یہ نسخہ آزماؤ اور دیکھو پھر کیا نتیجہ اُس کا نکلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دعا کرو۔کیونکہ ہمارے مذہب کی سچائی کا نشان یہ ہے کہ اس کے ماننے والوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔تم بھی اپنے لئے دعا کرو اور میں بھی تمہارے لئے دعا کرتا ہوں