سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 402
سبیل الرشاد جلد چہارم 402 کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہاری بیوی کے درمیان صلح اور حسن سلوک قائم کر دے اور جب یہ قائم ہو جائے گا تو کیونکہ میں نے تمہیں دعا کے لئے کہا ہے، کیونکہ خالص ہو کر تم نے دعا مانگنی ہے اور میں خود بھی تمہارے لئے دعا کروں گا۔کیونکہ میں یہ کہ رہا ہوں اس لئے جب یہ بات صحیح ہو جائے گی ، جب تمہارے مسائل حل ہو جائیں گے تو پھر یاد رکھو کہ یہ ہمارے امام کی صداقت کا نشان ہوگا۔چنانچہ کئی دن اس نے دعا کی۔موصوف کہتے ہیں کہ ان دعاؤں کے نتیجہ میں ایک ایک کر کے میرے سارے مسائل حل ہونے لگے اور بیوی سے بھی صلح ہوگئی۔کہتے ہیں کہ یہی راہ اصل اسلام کی راہ ہے جس میں خدا ملتا ہے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اب میری کایا پلٹ گئی ہے اور کہا کہ یہ سب مسیح موعود، امام الزمان علیہ السلام کی صداقت کا نشان ہے اور آپ کے ماننے میں نجات ہے۔اور اب وہ احمدی ہیں۔یہ اُن احمدیوں کے لئے بھی سبق ہے جو اپنے آپ کو پرانے احمدی خاندانوں سے منسوب کرتے ہیں لیکن اُن کے گھروں میں بے چینیاں ہیں۔اور بعض گھر بے چینیوں سے بھرے پڑے ہیں، مسائل میرے سامنے آتے ہیں کہ خاوند بیوی کے حقوق نہیں ادا کرتا، بیوی خاوند کے حقوق نہیں ادا کرتی۔ایمان میں پختگی پیدا کر کے عملی اصلاح کی کوشش کریں، اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں تو پھر یہ مسائل خود بخو دھل ہو جاتے ہیں۔یہ بھی طریقہ ہر ایک کو آزمانا چاہئے۔اپنی اناؤں کو چھوڑ کر اپنے دلوں میں جو پہلے ایک سوچ بنالی ہوتی ہے کہ اس نے یہ کہا اور میں نے یہ کہنا ہے۔اُس نے یہ کہنا ہے اور میں نے یہ کہنا ہے۔اس بات کو ختم کر کے خالصہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہئے تبھی اللہ تعالیٰ پھر صحیح راستے دکھاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے نشانات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل اللہ تعالیٰ ہمیں اس زمانے میں بھی دکھاتا ہے اُن کے بارے میں بھی بتا دوں۔ٹیچی مان(Techiman) گھانا کے ہمارے سرکٹ مشنری ہیں۔کورا بورا ان کا گاؤں ہے۔کہتے ہیں کہ وہاں ایک نواحمدی جبریلا صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یہ کاشت کا موسم ہے۔میرے غیر مسلم بُت پرست والد نے مجھے بتوں کے حضور حاضر ہونے اور نذرانہ پیش کرنے کا کہا ہے تا کہ ان کی برکت سے میری یام (Yam) کی فصل اچھی ہو جائے اور خوب پھل آئے (یام وہاں کی ایک خاص فصل ہے۔لوگ کھاتے ہیں ، ویسے تو یہاں بھی ملتا ہے )۔تو معلم لکھتے ہیں کہ جب میں نے اُسے کہا کہ ان بتوں سے باز ہی رہو اور والد کو بھی باز رکھو۔نیز اُسے دعائے استخارہ سکھائی تو خدا کے فضل سے جب کٹائی کا وقت آیا تو اس نوجوان کی یام کی فصل بہت اچھی ہوئی اور اُس کے والد کی نسبت اُس کی فصل کو اور زیادہ اچھا پھل لگا۔والد مشرک تھا اُس کی نسبت اس کی فصل بہت بہتر تھی۔اس کے والد نے یہ نشان دیکھ کر اُسے کہا کہ میرے بیٹے کا جو خدا ہے وہ سچا خدا ہے۔پھر جو بُت اُس کے پاس موجود تھے وہ سارے جلا دیئے۔تو یہ وہ ایمان کی مضبوطی