سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 400
سبیل الرشاد جلد چهارم 400 واقعات کو سن کر اپنے اوپر بھی یہ حالت طاری کرنے کے لئے نقل کرنی چاہئے تا کہ خدا تعالیٰ سے قرب کا رشتہ قائم ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ: دنیا میں جس قدر قومیں ہیں کسی قوم نے ایسا خدا نہیں مانا جو جواب دیتا ہو اور دعاؤں کو سنتا ہو۔کیا ایک عیسائی کہ سکتا ہے کہ میں نے یسوع کو خدا مانا ہے۔وہ میری دعا کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے جس نے کہا۔اُدْعُونِی اسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن: 61) تم مجھے پکارو میں تم کو جواب دوں گا اور یہ بالکل سچی بات ہے۔کوئی ہو جو ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ ( یہ چیز اہم ہے جو فرمایا ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہو وہ مجاہدہ کرے اور دعاؤں میں لگا رہے۔آخر اس کی دعاؤں کا جواب اُسے ضرور دیا جاوے گا۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 148۔ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ باتیں بار بار جماعت کے سامنے بیان کی جائیں تو یقینا اس میں طاقت پیدا ہو سکتی ہے۔یا جماعت کے ایک بھاری حصے میں یہ طاقت پیدا ہو سکتی ہے اور اُس کی قوت ارادی ایسی مضبوط ہوسکتی ہے کہ وہ ہزاروں گنا ہوں پر غالب آ جائے اور اُن سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے اور اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا تعلق پیدا ہو جائے جو بھی ڈانواڈول ہونے والا نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا یہی مقصد تھا کہ انسانیت کو گناہوں سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا تعلق پیدا ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کی رضا ہر چیز پر مقدم ہو جائے۔عبادت سے بچنے کے بہانے تلاش کرنے کی بجائے یا فرض سمجھ کر جلدی جلدی ادا کرنے کی بجائے ، جس طرح کہ سر سے، گلے سے ایک بوجھ ہے جو اتارنا ہوتا ہے، اُس طرح اتارنے کی بجائے ایک شوق پیدا ہو۔عملی تبدیلی کے واقعات میں اس وقت آپ کے سامنے چند مثالیں بھی پیش کر دیتا ہوں کہ احمدیت نے کیا عملی تبد یلی لوگوں میں پیدا کی؟ ہمارے مبلغ قرغزستان نے لکھا ہے کہ ایک بزرگ احمدی مکرم عمر صاحب، انہوں نے 10 رجون 2002ء کو بیعت کی تھی۔اٹھاون برس اُن کی عمر ہے۔پیدائشی مسلمان تھے لیکن کمیونسٹ نظریات کے حامی تھے۔انہوں نے بیعت کے متعلق اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔کہتے ہیں کہ جس دن خاکسار نے بیعت کے لئے خط لکھا وہ دن در حقیقت میری زندگی کا ایک یادگار دن تھا اور میں اُس دن کو اپنی ایک نئی پیدائش سے تعبیر کرتا ہوں۔اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس سے قبل میں ہر طرح کی دینی جماعتوں کے پاس گیا،