سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 369
369 سبیل الرشاد جلد چہارم نہ جماعتی پروگراموں میں شامل ہوتے ہیں لیکن جماعت کے ساتھ تعلق کیونکہ اُن کے خون میں تھا اس لئے جب اُن پر پابندیاں لگیں ، اُن کو تھوڑی سی سزادی گئی تو پریشان بھی ہو گئے اور انتہائی فکر اور درد سے مجھے معافی کے خط بھی لکھنے لگ گئے۔بعض مجھے ملے بھی تو اُس وقت بھی روتے تھے۔اگر وہ صرف دنیا دار ہی ہوتے تو یہ حالت نہ ہوتی۔پس ایسے بھی ہیں جو دنیا کے کاروباروں کی وجہ سے لا پرواہ ہو جاتے ہیں اور جب اُنہیں توجہ دلائی جاتی ہے تو پھر انہیں شرمندگی کا احساس بھی ہوتا ہے اور توبہ واستغفار بھی کرتے ہیں اور آئندہ سے جماعت سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ذیلی تنظیمیں ہر فرد کا خلافت سے ذاتی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کریں پس یہ یاد دہانی کروانا اور نگرانی بھی رکھنا یہ جو جماعتی نظام ہے،سیکر ٹریان، مبلغین اور ذیلی تنظیمیں ہیں ، ان سب کا کام ہے کہ خلافت سے ہر فرد کا ذاتی تعلق پیدا کروانے کی کوشش کریں۔دلوں میں خلافت سے تعلق اور وفا کو جو پہلے ہی ہے اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔جب اُن کو سمجھایا جائے تو یہ لوگ مزید نکھر کے سامنے آتے ہیں۔اگر کوئی گرد پڑ بھی گئی ہو تو وہ جھڑ جاتی ہے۔کیونکہ جب کوئی تعزیر کی جاتی ہے تو اُس وقت اس وفا کا شدت سے اظہار ہوتا ہے۔اگر تربیت کا شعبہ مستقل خلیفہ وقت سے رابطے کی تلقین کرتا رہے اور خطبات اور جلسوں اور سارے پروگراموں کو دیکھنے کی طرف توجہ دلاتے رہیں تو جہاں خلافت سے مزید تعلق مضبوط ہوگا، وہاں تربیت کے بھی بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔ذیلی تنظیمیں لازمی چندوں کی ادائیگی کے لئے اپنے ممبران کو تلقین کریں پھر اگلی بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں ، وہ افراد جماعت پر چندوں کی اہمیت واضح کرنا ہے۔یادرکھیں اور یہ بات عموماً میں سیکرٹریان مال سے کہا بھی کرتا ہوں کہ لوگوں کو یہ بتایا کریں کہ چندہ کوئی ٹیکس نہیں ہے بلکہ ان فرائض میں داخل ہے جن کی ادائیگی کا اللہ تعالی نے قرآن شریف میں متعدد جگہ حکم فرمایا ہے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَأَطِيْعُوا وَأَنْفِقُوْا خَيْرًا لا نُفُسِكُمْ وَمَنْ يُوْقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَه إِنْ تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ، وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيْم (التغابن: 17 - 18 ) پس اللہ کا تقوی اختیار کرو جس حد تک تمہیں توفیق ہے اور سنو اور اطاعت کرو اور خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔اور جونفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں تو یہی ہیں وہ لوگ جو کامیاب ہونے والے ہیں۔اگر تم اللہ کو قرضہ حسنہ دو گے تو وہ اسے تمہارے لئے بڑھا دے گا۔اِنْ تُقْرِضُوْا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمه وه اسے