سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 368
سبیل الرشاد جلد چہارم 368 یعنی آپ نے فرمایا کہ میں آئندہ ہزار سال کا خلیفہ ہوں اور جو بھی اب آئے گا آپ کی متابعت میں ہی آئے گا۔ہر احمدی، حضرت مسیح موعود کی کتب کا مطالعہ کرے۔پس جن پیشگوئیوں کے مطابق جو قرآن کریم اور حدیث میں واضح ہیں، مسیح موعود نے چودھویں صدی میں آنا تھا ، وہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہی ہیں۔پس ہر احمدی کو چاہئے کہ آپ کی کتب کو پڑھے۔انگریزی دان جو ہیں یا جن کواردوزبان نہیں آتی ان کے لئے دوسرے ملکوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف زبانوں میں اتنا لٹریچر موجود ہے کہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد اور آپ کو ماننا کیوں ضروری ہے اس بارے میں وضاحت سے موجود ہے۔اپنے عقیدے کو مضبوط اور پختہ کرنے کی ہر ایک کو ضرورت ہے۔اعتراض کرنے والوں کے اعتراضوں کے جواب دیں۔خود تیاری کریں گے تو علم بھی حاصل ہوگا اور اعتراضوں کے جواب بھی تیار ہوں گے۔ذیلی تنظیمیں خطبہ سننے اور سنانے کی طرف متوجہ ہوں اس کے لئے بھی علاوہ اس کے کہ ہر شخص خود کرے، جماعتی نظام کو بھی اور ذیلی تنظیموں کو بھی اپنے پروگرام بنانے چاہئیں کہ کس طرح ہم اس بارے میں ہر فرد تک یہ تعلیم پہنچا دیں کہ آپ کی بعثت کی غرض کیا ہے اور آپ کو ماننا کیوں ضروری ہے؟ یہ تو عقیدے کی بات ہوگئی جو میں نے کر دی ہے۔دوسری بات تربیت کی ہے اور وہ افراد جماعت کا خلافت کے ساتھ تعلق ہے۔خلافت کے ساتھ تعلق میں آج کل اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایم ٹی اے کا بھی ایک ذریعہ دیا ہوا ہے۔اسی طرح alislam ویب سائٹ ہے۔پس ان سے بھی جوڑنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ہر احمدی کو ، نوجوان کو، مرد ہو عورت ہو جوڑنے کی کوشش کریں اور نظام جماعت کو بھی اور ذیلی تنظیموں کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے۔مخلصین اور با وفا مخلصین کی بہت بڑی تعداد ہے جو بڑی کوشش سے آتے ہیں اور یہاں مسجد میں آ کر بھی خطبہ سنتے ہیں اور دنیا میں مختلف جگہوں پر ایم ٹی اے کے ذریعہ سے بھی سنتے ہیں اور باقاعدگی سے سنتے ہیں، بلکہ بعض ایسے بھی ہیں جو مجھے لکھتے ہیں کہ دو تین دفعہ سنتے ہیں۔لیکن ایک ایسی تعداد ہے جو نہیں سنتی۔یہاں یو کے (UK) میں ہی ایسے لوگ ہیں جو خطبات نہیں سنتے اور نہ ہی دوسرے پر وگرام دیکھتے ہیں بلکہ وہ بعض پروگراموں میں شامل بھی نہیں ہوتے۔ایک جماعت میں کافی تعداد میں لوگوں نے خلاف تعلیم سلسلہ بعض حرکتیں کیں جس کی وجہ سے مجبوراً اُن پر کچھ پابندیاں عائد کی گئیں۔جب مزید تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اُن میں سے اکثریت ایسی ہے جو خطبات نہیں سنتے ، یا جن کا جماعت میں زیادہ تر actively آنا جانا نہیں ہے،