سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 326
سبیل الرشاد جلد چہارم 326 بزرگ نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ پیس پرافٹ (Peace Prophet) کے لوگ اُن کے ماؤری کا وزٹ کرنے آئیں گے۔تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اُن کو تیاری کروائی ہوئی ہے۔عرفان احمد صاحب مبلغ ٹو گو لکھتے ہیں کہ ایک گاؤں میں تبلیغی پروگرام کے دوران ہمیں ایک بزرگ ملے جنہوں نے 1958ء میں غانا میں احمدیت قبول کی تھی۔اس کے بعد اُن کا رابطہ بالکل ختم ہو گیا تھا لیکن دل سے احمدی تھے۔جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے اپنے تمام حالات بتائے۔پروگرام کے بعد اس علاقے کے مولویوں نے اکٹھے ہو کر اُن کو بلایا اور دھمکی دی کہ وہ ہرگز یہاں احمدیت نہیں آنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ سے احمدی ہوں اور یہاں کا رہنے والا ہوں۔آج کے بعد یہاں احمدیت کی ترقی کے لئے کام کروں گا۔اُس کے بعد سے بڑے ایکٹو (Active) ہو گئے۔ٹوگو ریجن ہا ہو (Haho) کے ایک گاؤں کمپیوے (Kpeve) میں تبلیغ کی گئی۔یہ گاؤں مشرکوں کا ہے۔تبلیغ کے نتیجے میں 164افراد نے احمدیت قبول کی۔حسب معمول مخالفین نے وہاں جا کر ان کو جماعت سے بدظن کرنے کے لئے غلط باتیں کرنی شروع کر دیں اور اُن سے کہا کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ان کو قبول کر کے تم دوزخ میں چلے جاؤ گے۔سامان کی گاڑیاں بھر کر گاؤں میں آئے اور لالچ دی کہ جماعت کو چھوڑ دو تو یہ سب سامان دے دیں گے۔ایک خوبصورت مسجد بنا کر دیں گے۔گاؤں والوں نے باوجود غریب ہونے کے سب کچھ ٹھکرا دیا اور کہا کہ ہم زمین پر نماز پڑھ لیں گے۔ہمیں ایمان کی جو روشنی احمدیت نے دی ہے اُس کو ہر گز نہیں چھوڑیں گے۔اس کے بعد مخالفین نے امام کو لالچ دیا کہ اگر تم ہماری طرف آ جاؤ تو ہم تم کو 35000 فرانک ماہانہ دیں گے۔اُس نے جواب دیا کہ مجھے میرے کھیت سے جو ملتا ہے وہی کافی ہے۔مجھے آپ کے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔آخر مخالفین تمام تر کوششوں کے بعد ناکام لوٹ گئے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں پوری جماعت قائم ہے اور نظام کے ساتھ قائم ہے۔لوگ پوری طرح اُس میں شامل ہیں۔بین کے مبلغ عارف محمود صاحب لکھتے ہیں کہ تو کپوئے (Tokpoe) میں جماعت کا قیام آج سے چار سال قبل ہوا۔یہاں جماعت کی ایک مسجد بھی ہے جو کہ چند سال قبل تعمیر کی گئی تھی۔اس سال رمضان المبارک میں اس گاؤں کے احمدی اور نو مبائع افراد کی تعلیم و تربیت اور دیگر جماعتی پروگرام کے لئے امیر صاحب کی اجازت سے مدرسہ احمد یہ پوبے سے پاس ہونے والے طلباء میں سے ایک طالبعلم اکبوز وسلیمان Agbozo Souleman) کو بھجوایا جو یکم رمضان سے لے کر عید تک یہاں رہا۔اس طالبعلم نے مجھے بتایا کہ مورخہ میں رمضان کو شام پانچ بجے ایک گاڑی ہماری مسجد کے پاس آ کر رکی اور اُس میں سے ایک عربی شخص انترا اور اُس نے اس طالبعلم سے پوچھا کہ اس مسجد کا امام کون ہے؟ سلیمان نے جواب دیا کہ میں ہی