سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 327
327 سبیل الرشاد جلد چہارم مسجد کا امام ہوں۔اس طرح باتیں کرتے کرتے وہ سلیمان کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا اور اندر سے مسجد کو دیکھا اور سلیمان سے کہا کہ وہ سعودی عرب سے ہے اور مکہ مکرمہ کے قریب ہی اُس کا شہر ہے۔وہ یہاں کام کے سلسلے میں آیا ہوا ہے اور اس نے چودہ ہزار فرانک سیفا نکال کر سلیمان کو دیئے اور کہا کہ کل عید ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آپ ان پیسوں سے کچھ خرید کر غریبوں میں تقسیم کر دیں۔اس پر سلیمان نے اُس سے کہا کہ جماعتی سطح پر ہم نے انتظام کیا ہوا ہے اور ہم احمد یہ جماعت ہے ہیں۔ہم ہر بات اور کام کی تفصیل اپنے ریجن کے مشن ہاؤس کو دیتے ہیں اور وہ امیر کے ذریعے سے خلیفہ اسی کو رپورٹ بھجواتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ وہ جو عرب تھا اس آدمی نے شاید غور سے اُن کی بات نہیں سنی اور اپنی بات کرتا گیا کہ کس طرح اسلام کی خدمت کی جا سکتی ہے اور وہ کر بھی رہا ہے۔( خود بتا تا رہا کہ میں کس طرح اسلام کی خدمت کرتا ہوں ) کہتے ہیں اسی اثناء میں جو اُس کا ڈرائیور تھا اُس نے پوچھا کہ امیر کون ہے اور یہ خلیفہ کیا ہے؟ اُس کی بات سن کر وہ آدمی بھی تھوڑا سا چونکا اور پوچھا کہ مسجد کن کی ہے؟ سلیمان نے بتایا کہ احمدی مسلمانوں کی ہے۔اُس نے پھر استفسار کیا کہ مسجد کن کی ہے؟ سلیمان نے کہا کہ بتایا تو ہے کہ یہ مسجد احمدی مسلمانوں کی ہے۔جس پر وہ آدمی غصہ سے بولا کہ احمدی مسلمانوں کی نہیں ، احمدی کافروں کی کہو، کیونکہ یہ لوگ کافر ہیں۔پاکستان میں ان کو گورنمنٹ نے کافر قرار دیا ہوا ہے۔( یعنی یہ فتوے اب سعودی عرب میں بھی پاکستان سے آتے ہیں )۔سعودی عرب میں ہم نے بھی ان کے حج پر پابندی لگا رکھی ہے۔یہ دہشتگرد ہیں اور اسلام سے باہر ہیں۔اس پر سلیمان نے کہا کہ مسلمان یا کافر ہونے کا تو خدا ہی جانتا ہے کہ یہ کون ہے۔اتنی دیر میں اس گاؤں کے کچھ اور افراد بھی آگئے۔اُن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلیمان نے مزید کہا کہ یہ سب لوگ بت پرست تھے۔ان کو جماعت احمدیہ نے تبلیغ کی اور ان کو قرآن کی تعلیم دی جارہی ہے۔اُنہیں نماز پڑھنے کا طریق سکھایا گیا ہے۔یہ سب احمدی جماعت نے کیا ہے؟ کیا کوئی کا فرایسا کر سکتا ہے؟ اور یہ لو اپنے چودہ ہزار فرانک سیفا اور جس اسلام کی تم خدمت کرنا چاہتے ہو، وہ اس گاؤں میں نہیں ہے۔اس پر وہ آدمی بولا کہ اگر تم مسجد پر محمد یہ مسجد“ لکھ دو تو میں آپ کو اور بھی پیسے دینے کو تیار ہوں۔سلیمان نے کہا کہ جو خزانہ تعلیمات کی صورت میں ہم کو جماعت احمدیہ سے ملا ہے، وہ ہمارے لئے کافی ہے۔(اول تو یہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں تھا لیکن بہر حال اُس کی جو نیت تھی وہ اور تھی ، اس لئے انہوں نے انکار کر دیا )۔پھر وہ آدمی سلیمان کو دوسرے لوگوں سے ذرا فاصلے پر لے گیا۔نوجوان سمجھ کے اُس نے سوچا کہ اس کو لالچ دو اور کہا کہ اگر تم احمدیت چھوڑ دو تو میں آپ کی ہر طرح کی مدد اور خدمت کرنے کے لئے تیار ہوں۔بلکہ آپ کا ماہانہ الا ونس بھی مقرر کر دوں گا اور اس کے علاوہ بھی آپ کو وہ کچھیل جائے گا جس کا تم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔اس پر سلیمان نے کہا کہ میں جماعت کے لئے یہاں وقف عارضی پر آیا ہوں اور جو تعلیم اور ایمان کی دولت مجھے احمدیت سے ملی ہے، وہ کافی ہے۔اور اس طرح وہ شرمندہ ہو کے