سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 325
325 سبیل الرشاد جلد چہارم دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟ جب اُن کو تعارف کروایا گیا تو کہنے لگے کہ ان سے ملاقات ہو سکتی ہے؟ اُن دنوں میں چونکہ جلسہ جرمنی کی آمد تھی۔موصوف جلسہ جرمنی میں تشریف لائے ، وہاں جلسہ میں شامل ہوئے۔جلسہ کے سب مقررین کی بھی اور میری بھی تقریریں سنیں۔وہاں مجھے ملے بھی، دیکھتے رہے اور بڑے جذباتی ہوتے رہے۔اور یہ بھی کہتے رہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیوں رورہا ہوں اور اس جلسہ پر بیعت کر کے پھر جماعت میں داخل ہو گئے۔چودہ سال سے نماز اور اسلامی شعار سے بالکل دُور تھے حالانکہ پہلے مسلمان تھے۔لیکن الحمد للہ اب احمدیت میں داخل ہونے کے بعد ان تمام شعار کے پابند ہیں اور پابندی کرتے ہیں۔حقیقت میں ید انقلاب ہے جو احمد بیت لاتی ہے اور ہر احمدی کو یہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے اور تبھی ہم ، جوانصار اللہ کی عمر کے ہیں، انصار اللہ بھی کہلا سکتے ہیں کہ اگر اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کریں اور اخلاص و وفا کے اعلیٰ نمونے دکھانے والے ہوں۔پھر اسی طرح لکھتے ہیں کہ ایک اور دوست حسن صاحب کو احمدیت کا پیغام ملا تو دو تین مرتبہ احمدیت کے بارے میں گفتگو کے بعد موصوف نے بیعت کر لی۔اُن کا کہنا ہے کہ اس وقت اسلامی معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے جو صرف احمدیت میں نظر آتی ہے۔موصوف چونکہ کتب کی فروخت کا کاروبار کرتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے بک سٹال پر جماعتی کتب بھی رکھی ہوئی ہیں اور خود بھی تبلیغی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔صدر صاحب نیوزی لینڈ لکھتے ہیں کہ نومبر 2011 ء میں جماعت احمد یہ نیوزی لینڈ کو یہاں کے مقامی ماؤری (Maori) باشندوں میں سے پہلی بیعت حاصل ہوئی۔اس دوست میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام احمدیت قبول کرنے کے بعد ایک بڑی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔یہ دوست بیعت سے قبل بد قسمتی سے اپنے مخصوص ماحول کی وجہ سے پر تشد د طبیعت کے مالک تھے۔چنانچہ اسی وجہ سے گھر یلو تشدد کے باعث اُن کا معاملہ پولیس کے پاس چلا گیا اور ان کے ماضی کی وجہ سے قوی امکان یہی تھا کہ انہیں جیل ہو جائے گی۔اُن کی اہلیہ جو کہ جماعت میں کافی دلچسپی لیتی ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر احمدیت کچی ہے تو پھر تمہیں سزا سے بچ جانا چاہئے۔اس ضمن میں انہوں نے مجھے بھی دعا کے لئے لکھا۔اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر انہیں جیل سے محفوظ رکھا۔ان کی اہلیہ نے ابھی تک بیعت نہیں کی تاہم ان کے جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے ان کے قبیلے کے باقی لوگوں کے احمدیت قبول کرنے کا امکان ہے۔ایک تو یہ بہت بڑا بریک تھرو Break) Through ہوا ہے، لیکن انشاء اللہ وہاں کے یہ مقامی باشندے جو ماؤری کہلاتے ہیں جب کثیر تعداد میں احمدی ہوں گے تو اُس علاقے میں انشاء اللہ ایک بہت بڑا بریک تھرو ہو گا۔اس قبیلے کے بعض ایلڈرز (Elders) نے جماعتی وفد کے دورے کے موقع پر ہمارے ساتھ نماز بھی پڑھی۔کیونکہ اُن کے ایک