سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 242
سبیل الرشاد جلد چہارم 242 جب جماعتی انتخابات ہوتے ہیں اپنے آپ کو ووٹ بھی دے لیتے ہیں۔تو بہر حال اب تو اللہ کے فضل۔کافی حد تک جماعت کے افراد کو سوائے ایک آدھ کے جو نیا ہو ان باتوں کا، قواعد کا علم ہو چکا ہے۔اپنے آپ کو ووٹ دینے کی پابندی اس لئے جماعت میں ہے کہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عہدے کی خواہش نہ کرو۔اپنے آپ کو ووٹ دینے کا مطلب ہے کہ میں اس عہدے کا اہل ہوں اور میرے سے زیادہ کوئی اہل نہیں ہے اس لئے مجھے بنایا جائے۔اسی طرح بعض لوگ انتخابات جب ہوتے ہیں تو اگر اپنے آپ کو ووٹ نہیں بھی دیتے اس مجبوری کی وجہ سے کہ جماعت کے قواعد اجازت نہیں دیتے تو پھر وہ اپنا ووٹ استعمال بھی نہیں کرتے۔اپنے ووٹ کو استعمال نہ کرنا بھی اس بات پرمحمول کیا جاتا ہے کہ انسان سجھتا ہے کہ میں اس بات کا اہل ہوں۔گو کہ قواعد کی رو سے میں ووٹ تو نہیں دے سکتا لیکن کوئی دوسرا شخص میرے سے زیادہ اس بات کا اہل نہیں ہے اس لئے میں ووٹ استعمال نہیں کرتا۔تو اس بات سے بھی بچنا چاہئے یہ بھی تربیت کے لئے بہت ضروری چیزیں ہیں۔اگر کسی میں کسی بھی قسم کی صلاحیت ہے تو اس صلاحیت کا اظہار چاہے وہ پیشہ وارانہ ہو یا اور علمی نوعیت کی ہو یا کسی بھی قسم کی ہو تو اس صلاحیت کا اظہار عہدیداران کی یا دوسرے کی مدد کر کے کیا جاسکتا ہے۔بغیر عہدے کے بھی خدمت کی جاسکتی ہے۔اگر تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خدمت کرنی ہے تو پھر عہدے کی خواہش تو کوئی چیز نہیں ہے پس اس بات کو ہر احمدی کو نئے آنے والوں کو بھی نو جوانوں کو بھی اور پرانوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض پرانے احمدی بھی بعض دفعہ اس زعم میں کہ ہم زیادہ تجربہ کار ہیں زیادتی کر جاتے ہیں ایسے عہدیداروں کو بھی خیال رکھنا چاہئے ، عہدیداروں میں خاص طور پر بے نفسی ہونی چاہئے۔نام کی بے نفسی نہیں بلکہ حقیقی بے نفسی۔عہدیداران کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ہمیشہ سامنے رکھنے چاہئیں کہ عہد یدار قوم کا خادم ہے۔پھر ایک موقع پر حضرت ابوموسیٰ اشعری کو مخاطب کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عہدہ ایک امانت ہے اور انسان بہر حال کمزور ہے۔یہ امانت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی اور انسان کمزور ہے اگر امانت کا حق ادا نہیں کرو گے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پوچھے جاؤ گے۔( صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب كرامة الامارة بغير ضرورة حديث: 4719) پس اس امانت کا حق ادا کرنے کے لئے انتہائی عاجزی سے اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ اس خدمت کو ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پہلی بات تو یہ فرمائی کہ عہد یدار قوم کا خادم ہوتا ہے۔خدمت کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ ، ہر معاملے میں ، ہر قدم پر ، ہر لمحہ پر دعا مانگے کہ اللہ تعالیٰ میری راہنمائی فرما تار ہے تبھی عہدیدارا پن خدمت کا حق ، عہدے کا حق صحیح ادا کرسکیں گے۔بعض دفعہ میرے پاس بھی لوگ آتے ہیں۔پوچھوں کہ کوئی کام ہے؟ تو جماعتی خدمات کا بتاتے ہیں۔جب بھی پوچھو تو کہتے ہیں