سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 243

سبیل الرشاد جلد چہارم 243 کہ میرے پاس آج کل یہ عہدہ ہے تو نو جوانوں کی تو میں یہ اصلاح کر دیا کرتا ہوں۔اکثر میں ان کو یہ کہتا ہوں کہ یہ تمہارے پاس عہدہ نہیں یہ تمہارے پاس خدمت ہے۔خدمت کا تصور پیدا کرو گے تو سبھی حیح طور پر خدمت کر سکو گے " (خطبات مسرور جلد 7 صفحہ 138-139 ) عہدیداران بصیغہ راز معاملات کو اپنے پاس رکھ کر اصلاح کی کوشش کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 27 مارچ 2009ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا۔اسلام نے پردہ اور حیا پر بہت زور دیا ہے اور ساتھ ہی دوسروں کو بھی کہہ دیا ہے کہ تم ان کے عیب تلاش کرنے کی جستجو نہ کرو اور پھر اس کو پھیلاؤ نہ۔اگر کسی کا کوئی عیب علم میں آجاتا ہے اور یہ اتنا بے حیا ہے کہ سامنے بھی کر رہا اور بار بار اس کو پھیلاتا بھی چلا جارہا ہے۔تو جماعتی نظام ہے، متعلقہ عہد یدار ہے، یا نظام کو اس کی اطلاع کر دو اور خاموش رہو۔تم نے اپنا فرض پورا کر دیا اور اس کے لئے دعا کرو۔اگر تم باتیں کر کے، باتوں کے مزے لے کے اس جرم کو پھیلانے کا موجب بن رہے ہو تو پھر تقویٰ سے دور جارہے ہو اور اگر بالفرض کسی کے بارے میں کوئی برائی اتفاق سے علم میں آجائے اور اس کے بعد اس شخص نے اس برائی سے تو یہ بھی کرلی ہو لیکن پھر بھی کسی مخالفت کی وجہ سے کسی موقع کے ہاتھ آجانے پر ، اس برائی کا علم کسی شخص کو ہو جاتا ہے اور وہ اس کی تشہیر کرتا ہے تو وہ نہ صرف پردہ دری کا مرتکب ہو رہا ہے بلکہ فرمایا کہ چغلی کر کے تم وہ حرکت کر رہے ہو جیسے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہو۔پس معاشرے کو ہر قسم کے فساد سے بچانے کے لئے اور اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے پردہ پوشی انتہائی ضروری ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اگر اصلاح کی غرض ہے تو دعا کے ساتھ متعلقہ عہد یدار کو اطلاع دینا ضروری ہے کہ برائی دیکھو جو ختم نہیں ہورہی اور پھر اس عہد یدار کا فرض بن جاتا ہے کہ بصیغہ راز تمام معاملہ رکھ کے اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور اگر پھر کسی نے برائی پر ضد نہیں پکڑی تو حتی الوسع کوشش کرے ( یہ عہدیداران کا بھی کام ہے ) کہ بات باہر نہ نکلے۔“ خطبات مسر در جلد 7 صفحہ 165 ) مسجد میں آباد ہوں گی تو جماعت کی عمومی روحانی حالت بھی ترقی کرے گی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 26 جون 2009ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" جہاں میں عمومی طور پر جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں وہاں خاص طور پر کارکنان، عہدیداران اور واقفین زندگی جو ہیں ان کو سب سے زیادہ اس کے حصول کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اگر کارکنان عہد یداران اور واقفین زندگی اس طرف ایک فکر سے توجہ کریں گے تو جہاں ہماری مسجدوں کی آبادی