سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 241

سبیل الرشاد جلد چہارم 241 انصار اللہ کا کام اپنے عہد کی طرف توجہ کرنا اور ان راستوں پر چلنا ہے جن کی رہنمائی حضرت مصلح موعودؓ نے فرمائی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 20 فروری 2009ء میں خطبہ کے اخیر میں فرمایا۔ایک بات اور واضح کرنا چاہتا ہوں کل ہی میں نے ڈاک میں دیکھا کہ کسی ملک کی انصاراللہ کی تنظیم کا ایک پروگرام تھا کہ ہم نے یوم مصلح موعود پر بڑا وسیع کھیلوں کا پروگرام رکھا ہے اور تھوڑا سا علمی موضوع پر بھی پروگرام ہو گا، اجلاس ہوگا۔انصار اللہ کا کھیل کود سے کیا کام ہے؟ انصار کو تو چاہئے تھا کہ اپنے عہد کی طرف توجہ کرتے اور ان راستوں پر چلنے کی کوشش کرتے جن پر چلانے کے لئے مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے راہنمائی فرمائی ہے اور انصار اللہ کی تنظیم قائم فرمائی ہے تا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو جلد سے جلد دنیا میں پھیلانے والے بن سکیں اور مجھے امید ہے کہ انصار اللہ جس نے یہ پروگرام بنایا ہے، میں نام نہیں لینا چاہتا ، وہ اپنے اس فیصلہ پر نظر ثانی کریں گے اور آئندہ بھی لوگ اس کی احتیاط کریں گے" (خطبات مسرور جلد 7 صفحہ 104 ) عہدہ ایک خدمت ہے خدمت کا تصور پیدا ہوگا تو صحیح طور پر خدمت ہو سکے گی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ بیان فرمود 130 مارچ 2009ء میں فرمایا۔ایک مرتبہ ابوذرغفاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے دولڑکوں کو لے جا کر یہ سفارش کی کہ ان کا بھی یہ خیال ہے اور مجھے بھی یہی خیال ہے کہ زکوۃ کی وصولی پر ان کو لگایا جائے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو ذر جسے عہدہ کی خواہش ہو ہم اسے عہدہ نہیں دیتے۔(صحیح مسلم کتاب الامارة باب النھی عن طلب الامارة حدیث: 4717) جب خدا دیتا ہے تو پھر تو فیق دیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس کی مدد بھی کرتا ہے۔اس خواہش کے بغیر کوئی شخص کسی بھی خدمت پر مامور کیا جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے کہ اس کی مدد بھی کرے اور اس میں برکت بھی ڈالے۔فرمایا کہ جب مانگ کر لیا جائے تو پھر کام جو ہے وہ حاوی کر دیا جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ٹھیک ہے تم نے مانگ کے کام لیا، تم سمجھتے ہو میں اس کا اہل ہوں، تمہاری آگے آنے کی بڑی خواہش تھی تو پھر یہ ساری ذمہ داریاں نبھاؤ۔میں دیکھوں تم کس حد تک نبھاتے ہو؟ پس عہدے کی خواہش جو ہے اس میں نفس پسندی کا دخل ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بات بالکل پسند نہیں کہ انسان اپنے نفس کا زیادہ سے زیادہ اظہار کرے۔آج بھی بعض دفعہ جماعت میں جن جگہوں پر جن جماعتوں میں تربیت کی کمی ہے، جن لوگوں میں تربیت کی کمی ہے وہ اب عہدے کی خواہش کرتے ہیں۔اور بعض دفعہ علم نہ ہونے کی وجہ سے بعض جگہوں پر