سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 54

54 سبیل الرشاد جلد چہارم وجہ سے، میری کسی قربانی کی وجہ سے غلبہ عطا ہو رہا ہے یا جماعت میں ترقی ہو رہی ہے۔اس بارہ میں اور بھی بہت سارے الہامات ہیں نصرت کے بارہ میں اللہ تعالے کے۔تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہمیں اللہ تعالیٰ نے انصار بنا کر برکتیں سمیٹنے کا موقع دیا ہے۔پس ان برکتوں کو اگر جاری رکھنا ہے، اپنی نسلوں کی اصلاح کی خواہش اگر آپ کو ہے اور تمنا ہے، تو عملی نمونے قائم کرنے ہونگے۔گھروں میں بھی ، ماحول میں بھی ، معاشرہ میں بھی۔عبادتوں کے بھی عملی نمونے ، اعلیٰ اخلاق کے بھی عملی نمونے اور قربانی کے معیار کے بھی نمونے قائم کرنے ہوں گے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے، جیسا کہ میں نے کہا، کہ ہمیں انصار اللہ بنا کر اس ثواب کا مستحق بنا رہا ہے۔ہمیں ان ترقیات میں ہماری حقیر سی کوششوں کو قبول فرماتے ہوئے شامل فرما رہا ہے جو جماعت کے لئے اس نے مقدر کی ہوئی ہیں۔جس کا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ کیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ سب انصار کو حقیقی معنوں میں انصار اللہ بنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور خدا کرے کہ یہ غلبہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ہمارے اعمال کی کمزوریاں کہیں ہمیں ان نظاروں کے دیکھنے سے ،جس کے خدا تعالیٰ نے اپنے مسیح سے وعدے کئے ہیں۔محروم نہ کر دیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں دنیا جائے گزشتنی و گزاشتنی ہے اور جب انسان ایک ضروری وقت میں ایک نیک کام کے بجا لانے میں پوری کوشش نہیں کرتا تو پھر وہ گیا ہوا وقت ہاتھ نہیں آتا" پھر آپ نے فرمایا کہ: یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوششوں سے آتا ہے بلکہ خدا تعالے کی طرف سے آتا ہے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کیلئے بلاتا ہے۔اور میں سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجالائے گی۔تم یقینا سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے۔تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یا یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرا محتاج نہیں ، ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقع دیتا ہے" پھر آپ فرماتے ہیں کہ " تمہیں معلوم نہیں کہ اس وقت رحمت الہی اس دین کی تائید میں جوش میں ہے اور اس کے فرشتے دلوں پر نازل ہو رہے ہیں۔ہر ایک عقل اور فہم کی بات جو تمہارے دل میں ہے وہ تمہاری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔آسمان سے عجیب سلسلہ انوار جاری اور نازل ہو رہا ہے۔پس میں بار بار کہتا ہوں کہ خدمت میں جان تو ڑ کر کوشش کرو مگر دل میں مت لاؤ کہ ہم نے کچھ کیا ہے۔اگر تم