سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 53

53 سبیل الرشاد جلد چہارم بنالیا ہے اور میرا خطبہ بھی سن لیا ہے۔قربانی کرتے ہوئے ہر ایک کا حق ادا کریں ، اس کا حق اس کو دینے کی کوشش کریں۔دوسروں کی برائیوں پر نظر رکھنے کی بجائے اپنی برائیوں کو دیکھیں تو پھر اصلاح بھی ہوگی اور اصلاح کی طرف توجہ بھی پیدا ہوگی۔پھر مالی قربانیوں کی طرف توجہ کریں ، اپنے عہدوں کو پورا کریں۔آپ نے عہد کیا ہے کہ احمدیت کی مضبوطی اور اشاعت کیلئے قربانی کرتا رہوں گا۔یہ جوا بھی عہد دہرایا ہے ، پس اس بارہ میں سوچیں، غور کریں کہ کہاں تک اس عہد کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔کہاں تک اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کیا ہے۔مجلس عاملہ کا ہرممبر نظام وصیت میں شامل ہو میں نے جلسہ کی تقریر کے دوران آخری دنوں میں انصار اللہ کے ذمہ بھی یہ لگایا تھا کہ وہ نظامِ وصیت میں شامل ہونے کی طرف توجہ دیں، اس بارے میں بھی کوشش کریں۔ایک بہت بڑی تعداد ہے جو صف دوم کے انصار پر مشتمل ہے۔یاد رکھیں کہ آپ کی تلقین بھی تبھی کامیاب ہوگی تبھی کارآمد ہوگی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس نظام میں بھی شامل ہوں گے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس میں شامل ہونے والوں کے لئے بہت دعائیں کی ہوئی ہیں۔اور جس کو یہ دعائیں لگ جائیں اس کی دنیا بھی سنور جائے گی اور اس کی آخرت بھی سنور جائے گی۔پس اس طرف بھی توجہ کریں۔اور سب سے پہلے میں یہاں کہوں گا کہ تمام عہدیداران جو ہیں ان کو اس نظام میں شامل ہونا چاہئے، نیشنل عاملہ سے لے کر نچلی سے نچلی سطح تک جو بھی عاملہ ہے اس کے لیول تک۔ہر عاملہ کانمبر اس نظام میں شامل ہو تبھی وہ تلقین کرنے کے قابل بھی ہوگا۔اللہ کے انصار بن کر جو برکتیں حاصل کی ہیں ان کو اپنی اولاد میں منتقل کریں پس یہ طریق ہیں نصرت کے وعدے کو پورا کرنے کے ، یہ طریق ہیں اپنے وعدے کو سچا کرنے کے اور یہ طریق ہیں اللہ تعالے کی برکات اس کے نتیجے میں حاصل کرنے کے۔اللہ تعالے کے دین نے تو انشاء اللہ تعالیٰ غالب آنا ہے اور یہ خدا تعالے کا وعدہ ہے جیسے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی الہاماً فرمایا تھا اور اتفاق یہ ہے کہ آج سے سو سال پہلے کا یہ الہام ہے۔دو، تین اکتوبر کا کہ قَدْ جَاءَ الدِّينُ مِنَ النُّصْرَةِ ثُمَّ سَيَعُودُ مِنَ النُّصْرَة ( تذکره صفحه ۲۵، مطبوعه ۹۲۹، ، ر بوه ) کہ دین پہلے بھی نصرت ہی سے غالب آیا تھا اب بھی دوبارہ وہ نصرت ہی کے ذریعہ سے غالب آئے گا۔پس جہاں یہ الہام ہمیں یہ تسلی دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں احمدیت کو بھی غلبہ عطا کروں گا اسی طرح جیسے پہلے اسلام کو غلبہ عطا ہوا تھا۔کہیں کوئی کم عقل یہ نہ سمجھ لے کہ شاید میری کسی کوشش کی وجہ سے یا میرے کسی کام کی وجہ سے یا میرے کسی کارنامے کی