سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 393

393 سبیل الرشاد جلد چہارم جاتی ہے۔ایسا شخص اگر اپنی طبیعت پر دباؤ ڈالے گا تو پھر بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائے گا اور اُس میں کامیابی حاصل ہو جائے گی۔اور حقیقی کی مثال یہ ہے کہ دیر تک کام نہ کرنے کی وجہ سے انسان میں کام کرنے کی طاقت ہی باقی نہیں رہتی اور اُس میں دس بیس سیر سے یا کلو سے زیادہ وزن اُٹھانے کی طاقت نہیں رہتی۔تو ایسے شخص کو زائد وزن اُٹھوانے کے لئے مددگار دینا ہو گا۔اُس کی اصلاح کے لئے اُس کی قوتِ ارادی کو بڑھانے کے لئے اور اُس کی قوت عملی کو بڑھانے کے لئے پھر کچھ اور طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔غرض جب طاقت کا خزانہ موجود نہ ہو تو اُس وقت بیرونی ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں تا کہ کام کو پورا کیا جاسکے۔یہی حال اعمال کی اصلاح کا ہے اور مختلف لوگوں کے لئے مختلف علاجوں کی ضرورت ہے۔ایک ہی علاج ہر ایک کے لئے نہیں ہے۔بعض کے لئے قوت ارادی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔بعض کے لئے قوت عملی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور بعض کے لئے اس صورت میں جبکہ بوجھ زیادہ ہو، اُن کی طاقت اور برداشت سے باہر ہو، بیرونی مدد کی ضرورت ہے۔ذیلی تنظیمیں اپنا کردار ادا کریں (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 441 خطبه فرموده 10 جولائی 1936 مطبوعہ ربوہ ) اُس وقت معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے، جماعت کو اپنا کردارادا کرنا پڑتا ہے، ذیلی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔پس ہمیں اپنی عملی اصلاح کے لئے ان باتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، ان باتوں کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اپنی قوتِ ارادی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، قوت عملی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں اور ہماری جو صلاحیتیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے جو طاقتیں ہمیں دی ہیں وہ زنگ لگ کے ختم نہ ہو جائیں۔اس کی مزید وضاحت انشاء اللہ تعالی آئندہ میں کروں گا۔آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات پیش کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا اور اپنی قوت خرچ کرنا یہی ایمان کا طریق ہے۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 92۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پس اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا ، اپنی قوتِ ارادی کو دعا کے ذریعہ سے مضبوط کرنا ہے اور قوت کا خرچ کرنا، قوت ارادی اور قوت عملی کا اظہار ہے۔جب یہ اظہار اعلیٰ درجہ کا ہو جائے تو یہی ایمان ہے اور پھر بندہ ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے کرتا ہے اُس کی رضا کے حصول کی طرف توجہ رہتی ہے۔پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا: " تم صرف اپنا عملی نمونہ دکھاؤ اور اس میں ایک ایسی چمک ہو کہ دوسرے اُس کو قبول کر لیں۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 116۔ایڈیشن 2003 ، مطبوعہ ربوہ )