سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 392 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 392

سبیل الرشاد جلد چهارم 392 حرج کیا ہے کہ چھوٹا سا، معمولی سا تھ گناہ ہے جب کہ اس کے کرنے سے فائدہ زیادہ حاصل ہوگا تو دماغ پھر گناہ کو مٹانے کی طاقت نہیں بھیجتا۔وہ جس مرجاتی ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ قوت ارادی ختم ہو جاتی ہے اور گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔گویا اصلاح اعمال کے لئے تین چیزوں کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔علم کی زیادتی قوت ارادی کا حصہ ہوتی ہے ایک قوت ارادی کی مضبوطی کی ضرورت ہے، ایک علم کی زیادتی کی ضرورت ہے اور ایک قوت عملیہ میں طاقت کا پیدا کرنا ، یہ بھی ضروری ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ علم کی زیادتی در حقیقت قوت ارادی کا حصہ ہوتی ہے کیونکہ علم کی زیادتی کے ساتھ قوت ارادی بڑھتی ہے۔یا کہہ سکتے ہیں کہ وہ عمل کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ان سب باتوں کا خلاصہ یہ بنے گا کہ عملی اصلاح کے لئے ہمیں تین چیزوں کی ضرورت ہے، پہلے قوت ارادی کی طاقت کہ وہ بڑے بڑے کام کرنے کی اہل ہو۔علم کی زیادتی کہ ہماری قوت ارادی اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتی رہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے اور صحیح کی تائید کرنی ہے اور اُس پر عمل کرنے کے لئے پورا زور لگانا ہے۔غفلت میں رہ کر انسان مواقع نہ گنوا دے۔تیسرے قوت عملیہ کی طاقت کہ ہمارے اعضاء ہمارے ارادے کے تابع چلیں۔بدار ا دوں کے نہیں ، نیک ارادوں کے اور اُس کا حکم ماننے سے انکار نہ کریں۔یہ باتیں گناہوں سے نکالنے اور اعمال کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہیں۔اپنی قوت ارادی کو ہمیں اُس زبر دست افسر کی طرح بنانا ہوگا جو اپنے حکم کو اپنی طاقت اور قوت اور اصولوں کے مطابق منواتا ہے اور کسی مصلحت کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیتا۔ہمیں چھوٹے بڑے گناہوں کی اپنی من مانی تعریفیں بنا کر اپنے او پر غالب آنے سے روکنا ہو گا۔صحیح علم ہمیں اُن ناکامیوں سے محفوظ رکھے گا جو قوت مواز نہ کی غلطیوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جس کی مثال میں دے چکا ہوں کہ جس مرجاتی ہے۔چھوٹے اور بڑے گناہوں کے چکر میں انسان رہتا ہے اور پھر اصلاح کا موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔اور بعض دفعہ یوں بھی ہوتا ہے کہ عدم علم کی وجہ سے قوت ارادی فیصلہ ہی نہیں کر سکتی کہ اُسے کیا کرنا ہے یا کیا کرنا چاہئے۔اسی طرح جب قوت عملیہ مضبوط ہو گی تو وہ قوت ارادی کے ادنیٰ سے ادنی اشارے کو بھی قبول کرلے گی۔حضرت مصلح موعود نے ایک نکتہ یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ یہاں یہ یا درکھنا چاہئے کہ قوت عملیہ کی کمزوری دو طرح کی ہوتی ہے۔حقیقی اور غیر حقیقی۔غیر حقیقی تو یہ ہے کہ قوت تو موجود ہو لیکن عادت وغیرہ کی وجہ سے زنگ لگ چکا ہو اور حقیقی یہ ہے کہ ایک لمبے عرصے کے عدمِ استعمال کی وجہ سے وہ مردہ کی طرح ہوگئی ہو اور اُسے بیرونی مدد اور سہارے کی ضرورت پیدا ہو گئی ہو۔غیر حقیقی مثال ایسے شخص کی ہے جسے طاقت تو یہ ہو کہ من بوجھ اُٹھا سکے، چالیس کلو وزن اُٹھا سکے لیکن کام کرنے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے جب اُسے بوجھ اُٹھانے کا کہو تو اُسے گھبراہٹ چھٹڑ جاتی ہے، پریشانی شروع ہو