سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 361 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 361

361 سبیل الرشاد جلد چہارم جماعت احمدیہ کی محبت سے پُر ہوں۔وہ اپنے ماتحتوں یا اپنے سٹاف سے صرف نرمی اور محبت کا سلوک ہی نہ کرتے ہوں بلکہ ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہو۔ان کے دل اس قدر صاف اور شفیق ہوں کہ لوگ ان کی طرف محبت سے کھنچے چلے آئیں اور وہ بھی انہیں سینے سے لگانے والے ہوں۔کجا یہ کہ ان کے اخلاق لوگوں کو دور بھگانے والے بنیں۔کیونکہ اگر ان کے دلوں میں سختی ہوگی تو وہ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کرنے سے قاصر رہیں گے جس کے نتیجہ میں احمدی ایک عجیب سے تذبذب کا شکار ہونے لگیں گے۔اور چند عہدیداران کے ناروا سلوک کی وجہ سے بعض احمدی نہ صرف یہ کہ مایوس ہوں گے بلکہ آہستہ آہستہ نظام جماعت سے بھی ہٹتے چلے جائیں گے۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس وجہ سے وہ جماعت سے ہی قطع تعلقی اختیار کر لیں اور خلیفہ وقت کے بارے میں ایک غلط تاثر اپنے ذہنوں میں رکھ لیں۔چنانچہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ممبران جماعت سے حسنِ سلوک نہ رکھنے کی وجہ سے بہت گہرے منفی اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔میری طرف سے منظور شدہ ہر جماعتی عہدیدار کو لازما یہ پہلو پیش نظر رکھنے چاہئیں۔مزید برآں وہ تمام لوگ جو عہد یدار تو نہیں لیکن آج بحیثیت نمائندہ مجلس شوریٰ یہاں موجود ہیں اور کوئی نہ کوئی جماعتی خدمت بجا لاتے ہیں ان پر بھی لازم ہے کہ وہ بھی کام کرتے ہوئے ان امور کو پیش نظر رکھیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔ٹیم بنا کر کام کریں حضور انور ایدہ اللہ نے ٹیمیں بنا کر کام کرنے کی حکمت بیان فرماتے ہوئے ہر کامیابی کا دار ومدار دعا کو قرار دیا۔نیز فر مایا کہ با قاعدہ طور پر مقرر کیے جانے والے جماعتی عہد یداران کو رضا کاران کی ٹیمیں بنا کر کام کرنا چاہئے۔اس سے نہ صرف یہ کہ وہ ان کے کاموں میں معاون و مددگار ہوں گے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں کی ایک کھیپ تیار ہوتی جائے گی جو مستقبل میں جماعتی ذمہ داریوں کو سنبھالنے والے ہوں گے۔پھر اس ٹیم کا مقصد صرف یہی نہ رہ جائے کہ اس نے حکم کی تعمیل میں کام کرنا ہے بلکہ کام لینے کے ساتھ ساتھ عہدیداران کو یہ بھی چاہئے کہ وہ گاہے بگاہے اپنی ٹیم کے ممبران سے تبادلہ خیال کریں، مختلف کاموں میں مزید بہتری لانے کے لیے ان سے مشورہ کریں اور جب آپس میں تبادلہ خیال ، سوچ بچار اور مشورہ کر لینے کے بعد ایک حتمی لائحہ عمل طے پا جائے تو پھر اس تمام عمل کے سب سے ضروری پہلو کونظر انداز نہ ہونے دیں یعنی یہ کہ آپ نہایت عجز و انکسار اور مستقل مزاجی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں لگ جائیں کہ اللہ تعالیٰ ہر اس تدبیر میں جو آپ نے اپنے مفوضہ امور کی انجام دہی کے لیے سوچی ہے برکت عطا فرما دے۔ہمیں کسی ایسے عہد یدار کی ضرورت نہیں جو نماز ادا نہیں کرتا۔۔۔۔حضور انور ایدہ اللہ نے جماعتی عہدیداران کو عبادت کے معیار کو بلند کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے