سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 360
سبیل الرشاد جلد چہارم 360 کو رحم کا سلوک فرماتے ہوئے انہیں معاف کر دینا چاہئے۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے انتظامی معاملات میں مشورہ کرنا چاہئے۔اور ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ایسے لوگ جن سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں ان کا مشورہ بالکل تسلیم ہی نہ کیا جائے یا ان پر غور ہی نہ کیا جائے۔حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ بظاہر تو یہ ہدایات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ہیں لیکن درحقیقت یہی ہدایات خلیفہ وقت کے لیے بھی اور پھر جماعتی عہدیداران کے لیے بھی ہیں۔اس لیے وہ تمام عہدیداران جن کے نام الیکشن میں پیش کیے گئے ہیں یا جن کی منظوری میری طرف سے آئے گی انہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ وہ اپنے ماتحت عہدیداران اور دیگر ممبران جماعت احمدیہ سے محبت، شفقت، لحاظ اور احترام سے پیش آئیں۔حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا کہ ضمنی طور پر میں یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ ضروری نہیں کہ جن لوگوں کو اس الیکشن میں کسی خاص عہدے کے لیے سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں انہیں کی منظوری میری طرف سے دی جائے۔حضور انور ایدہ اللہ نے جماعت احمدیہ میں عہدہ کی حقیقت اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر عہدیدار کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہئے کہ جماعت میں بنیادی طور پر ہر عہدہ ایک 'امانت' ہے۔اور امانتوں پر پورا اترنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے واضح احکامات موجود ہیں۔۔۔۔تمام عہدیداران کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس امانت کا حق ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں جو ان کے سپرد کی گئی ہے۔اور امانت کا حق ادا کر نے کا طریق یہ ہوتا ہے کہ جو بھی ذمہ داری آپ کو سونپی گئی ہے اسے اپنے پورے دل اور پوری جان، نیک نیتی ، انتہائی درجہ کی ایمانداری اور متانت سے پورا کرنے کی کوشش کریں۔اس لیے ہر عہد یدار کا نمونہ ایسا ہو کہ وہ اپنے وقت کو قربان کرنے کے لیے ہر دم تیار رہے اور ہر دم اپنے کاموں کو بہتر طور پر کرنے کے لیے سوچ اور تدبیر میں لگار ہے۔یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوسروں سے شفقت سے پیش آنے کے حکم کے مخاطب صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہیں تھے بلکہ وہ تمام لوگ بھی یکساں طور پر اس ارشاد کے مخاطب ہیں جنہیں ذمہ داریوں کا امین ٹھہرایا گیا ہے۔آج احمدی ہی وہ لوگ ہیں جو اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا دعویٰ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی پوری کوشش بھی کرتے ہیں کہ ہم اس دعوی کو سچا ثابت کرنے والے بنیں۔ہم وہ لوگ ہیں جو یہ خواہش رکھتے ہیں کہ نظام جماعت احمدیہ کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تابع چلنے والا ایک نظام ہو۔لہذا یہ تمام باتیں تقاضا کرتی ہیں اور جیسا کہ میں پہلے ذکر بھی کر آیا ہوں کہ وہ تمام افراد جنہیں عہدہ کی ذمہ داری سونپ کر ایک لحاظ سے امین ٹھہرایا گیا ہے انہیں لوگوں کے ساتھ شفقت ، محبت اور احترام کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔انہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے دل نرم اور ممبرانِ