سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 303 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 303

303 سبیل الرشاد جلد چہارم پس ذیلی تنظیمیں یا درکھیں کہ اگر حقیقت میں اجتماع میں شامل ہونے والوں اور ایم۔ٹی۔اے کے ذریعے سے سننے والوں پر دنیا میں کہیں بھی کوئی اثر ہوا ہے تو یہ لوہا گرم ہے اس کو اُس مزاج کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں جس مزاج کو پیدا کرنے کے لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیجا ہے" خطبات مسرور جلد 9 صفحه 475-476) جماعتی عہد یدار د نیا وی عہد یدار نہیں بلکہ خادم ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 30 ستمبر 2011ءکو خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" پس کامیابی نتیجہ ہے سنتے ہی اطاعت کرنے کا۔اللہ اور رسول کے نام پر جو احکامات دیئے جائیں ان کو سنتے ہی اطاعت کرنے کا نتیجہ کامیابی ہے۔اور یہ سنا اور اطاعت کرنا اُن تمام باتوں کے لئے ہے جن کے کرنے اور نہ کرنے کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔مثلاً قرآن کریم فرماتا ہے کہ اپنی امانتوں کا حق ادا کرو۔آپ کی امانتیں آپ کی ذمہ داریاں ہیں۔ایک ذمہ داری جس طرح پڑتی ہے انسان اسے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔امانتیں جو آپ کے سپرد کی گئی ہیں وہ بھی اُسی طرح کی ذمہ داری ہے جن کے کرنے کا آپ کو حکم ہے۔عہد یدار ہیں تو اُن کا جماعت کے لئے وقت دینا اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرنا۔افراد جماعت کے حقوق کی ادائیگی کی کوشش کرنا، یہ امانتیں ہیں۔ایک ( جماعتی ) عہد یدار کوئی دنیاوی عہدیدار نہیں ہے جس نے طاقت کے بل پر اپنے کام کروانے ہیں بلکہ وہ خادم ہے۔حدیث میں بھی آتا ہے کہ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔( الجامع الصغیر حرف السين صفحہ نمبر 292 حدیث نمبر 4751 دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) پس اس خدمت کے جذبے کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔تبھی جو خدمت، جو امانت آپ کے سپرد ہے آپ اُس کا حق ادا کر سکتے ہیں۔میرے پاس جب بعض لوگ آکر یہ کہتے ہیں کہ میرے پاس فلاں فلاں عہدہ ہے تو میں عموماً یہ کہا کرتا ہوں کہ یہ کہو کہ فلاں خدمت میرے سپرد ہے۔دوسرا تو بیشک عہد یدار کہے لیکن خود اپنے آپ کو خادم سمجھنا چاہئے اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے خدمت کا موقع دیا ہوا ہے۔کیونکہ عہدہ کہنے سے سوچ میں فرق پڑ جاتا ہے۔ایک بڑے پن کا احساس زیادہ ہو جاتا ہے، بڑے پن کا احساس