سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 302

سبیل الرشاد جلد چہارم 302 ہر سطح کا عہدیدارانصاف کے تقاضوں کو خدا کا خوف رکھتے ہوئے پورا کرے حضور انور نے 22 اپریل 2011 ءکو خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" میں عہدیداران جماعت سے بھی یہ کہوں گا کہ وہ خلافت کے حقیقی نمائندے تبھی کہلا سکتے ہیں جب انصاف کے تقاضوں کو خدا کا خوف رکھتے ہوئے پورا کرنے والے ہوں۔کسی بھی عہدیدار کی وجہ سے کسی کو بھی ٹھو کر لگتی ہے تو وہ عہدیدار بھی اُس کا اُسی طرح قصور وار ہے کیونکہ اُس نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی امانت کا حق ادا نہیں کیا۔اگر اُس کی غلطی کی وجہ سے ٹھوکر لگ رہی ہے اور جان بوجھ کر کہیں ایسی صورت پیدا ہوئی ہے تو بہر حال وہ قصور وار ہے اور امانت کا حق ادا نہ کرنے والا ہے۔پس ہر احمدی کو چاہے وہ کسی بھی مقام پر ہو، ہمیشہ یہ سمجھنا چاہئے کہ میں نے اپنے عہد بیعت کو قائم رکھنے کے لئے ، اپنے ایمان کو قائم رکھنے کے لئے ہر حالت میں صدق اور تقویٰ کا اظہار کرتے چلے جانا ہے تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو پورا کرنے والا بن سکوں " (خطبات مسرور جلد 9 صفحہ 207) ذیلی تنظیمیں میری باتوں کی جگالی کرواتی رہیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2011 ء بمقام گروس گیرا ؤ جرمنی میں لجنہ اماءاللہ جرمنی اور مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے اجتماعات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔" اس اجتماع میں دونوں طرف تقریباً نصف جماعت کی حاضری تو تھی۔اگر حاضر ہونے والوں کی اکثریت اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے والی بن جائے تو جو انقلاب دنیا کی اصلاح کا حضرت مسیح موعود دلانا چاہتے تھے اور جو انقلاب اُن کی جماعت کو لانا چاہئے اُس میں یہ لوگ مددگار بنے کا کردار ادا کرنے والے ہوں گے۔اکثریت میں نے اس لئے کہا ہے کہ یقیناً ایسے بھی بیچ میں بیٹھے ہوتے ہیں جو زیادہ اثر نہیں لیتے ، لیکن جنہوں نے اثر لیا ہے، اپنے جائزے لئے ہیں، مجھے خطوط لکھے ہیں وہ بھی یادرکھیں کہ اگر آپ ان باتوں کی بنگالی نہیں کرتے رہیں گے، اگر ذیلی تنظیمیں میری طرف سے کہی گئی باتوں کی ہر وقت جگالی نہیں کرواتی رہیں گی تو پھر کچھ عرصہ بعد یہ باتیں، یہ جوش ، یہ شرمندگی کے جو اظہار ہیں یہ ماند پڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔