سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 291
سبیل الرشاد جلد چہارم 291 کے بعد وہ میدان کھچا کھچ نورانی شکل کے لوگوں سے بھر گیا۔معا سب کی نظریں اوپر کی طرف کو دیکھنے لگیں۔میں نے بھی اوپر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہوائی جہازوں کی طرح جھولے نہایت نفیس بنے ہوئے جھولے جیسے ہیں اور ان میں کسی میں ایک مرد ایک عورت یا دو عورتیں اور کسی میں فقط عورتیں یا فقط مرد آسمان سے نہایت آرام سے اترتے ہیں۔مجھے خود بخود معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ فلاں نبی ہے اور یہ فلاں نبی ہے اور بہت سی امہات المؤمنین بھی مثلا مائی صاحبہ حوا، مائی صاحبہ ہاجرہ، مریم اور بی بی فاطمہ وخدیجہ رضی اللہ تعالی عنھن سب تشریف لے آئیں۔اور جب سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور امہات المومنین آکر اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے اور اسی طرح انتظار ہونے لگا کہ جیسے جمعہ کے روز قادیان شریف میں مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا انتظا ر لوگ کرتے ہیں۔اور بعض دفعہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہنے لگتے ہیں کہ باپ بیٹا آتے ہی ہوں گے۔کافی دیر کے بعد ایک جھولا اترا جو کہ سب جھولوں سے زیادہ سجا ہوا تھا۔اس میں جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر سٹیج پر جو دو کرسیاں ساتھ ساتھ پڑی تھیں تشریف فرما ہوئے۔پہلے مجھ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حضرت مرزا صاحب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے السلام علیکم کہا۔اور پہلی افتتاحی تقریر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور فرمایا کہ میں اپنے بیٹے کو اپنے سب نبیوں کے سامنے جس کے متعلق پہلے سے آپ لوگوں کو خبر میں دی جاچکی ہیں، تخت پر بٹھاتا ہوں۔پھر حضرت مرزا صاحب مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر فرمائی۔اس وقت مجھے سید کی حقیقت معلوم ہوئی اور حضرت صاحب کو دیکھا کہ جو وہی لدھیانے کے سٹیشن والے ہی مرزا صاحب تھے۔دوسرے روز سب سے پہلے بیعت کا خط لکھ دیا۔ہزاروں ہزار برکتیں نازل ہوں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اوران کی اولاد پر۔حضرت را جیلی کا واقعہ بیعت حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی جنہوں نے 1897ء میں بیعت کی تھی اور 1899ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت ہوئی۔وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میں نے ایک عربی قصیدہ سنایا۔مسجد مبارک میں مغرب کی نماز کے بعد چھت پر میں قصیدہ سنانے لگا۔جب میں نے وہ شعر پڑھا جس میں میں نے اسلام کے علماء جو سلسلہ احمدیہ کے مخالف اور دشمن تھے ، ان کو مخاطب کرتے ہوئے شعر کہا تھا۔جس کا یہ مطلب ہے کہ کیا تم اپنی حماقت سے اپنے دجال کی تائید کرتے ہو؟ عیسی کی حیات کے ذریعہ؟ جو زندوں کا تو نہیں البتہ مُردوں کا سردار ہے۔حضرت صاحب نے جب یہ شعر سنا تو آپ نے اس شعر کو بہت ہی پسند فرمایا اور فرمایا کہ یہ شعر بہت ہی اچھا ہے۔عجیب تڑپ تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو اونچا کرنے کے بارے میں کوئی بات سنتے تھے تو اس پر انتہائی پسندیدگی کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔اور کہتے ہیں کہ کہا اس کو دوبارہ پڑھو اور بار بار