سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 290
سبیل الرشاد جلد چہارم 290 چاہئے۔چنانچہ ہم نے بیعت کا خط لکھ دیا۔جمعہ کا دن تھا میں نے یہاں اعلان کر دیا کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت کرلی ہے اور مولوی صاحب نے قلعہ میں اعلان کیا اور پھر مخالفت ہوتی رہی۔حضرت محمد شاہ کا بیعت کا دلچسپ واقعہ حضرت محمد شاہ صاحب ابن عبداللہ شاہ صاحب آف لدھیانہ لکھتے ہیں کہ میرا پہلے یہ خیال تھا کہ جو سید ہیں ان کو کسی دوسرے کی بیعت کرنے کی ضرورت نہیں۔ہمارا مقام اس سے گرتا ہے۔تو کہتے ہیں کہ کچھ مدت تک اسی خیال میں پختہ رہا۔لیکن جب بھی کسی مجلس میں حضرت مرزا صاحب کا ذکر ہوتا۔اگر تعریفی رنگ میں ہوتا تو دلچسپی سے سنتا اور جس مجلس میں مخالفت ہوتی اس مجلس میں بیٹھنا نا گوار گزرتا۔قائل تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لیکن جو سید کا ایک ٹائٹل لگا ہوا تھا، اس کی وجہ سے انا زیادہ بڑھ گئی تھی۔کہتے ہیں اس مجلس میں نہ بیٹھتا تھا۔اٹھ کر چلا جاتا۔آخر ایک روز کسی کے منہ سے بے پیر اور بے مرشد سن کر جو کہ کسی اور کو کہہ رہا تھا خیال آیا کہ بے پیر اور بے مرشد تو ایک گالی ہے اور میں خود بھی بے پیر اور بے مرشد ہوں۔سید تو ہوں لیکن میرا کوئی پیر نہیں اور مجھے کوئی پیر مانے کو تیار نہیں۔کیا سید مستی ہیں؟ خود ہی بعض گدی نشینوں کا خیال آکر کہ بعض بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں اور سید تھے۔انہوں نے بھی بعض غیر سید بزرگوں کی بیعت کر کے فیض حاصل کیا تھا۔تو بہر حال کہتے ہیں ہمیں بھی اپنی جگہ فکر رہنے لگا لیکن کم علمی اور جہالت کی وجہ سے کسی سے دریافت نہ کیا۔لیکن ایک مقصد دل میں رکھ کر بعض اچھے آدمیوں سے اپنے مقصد کے پورا ہو جانے کے واسطے کچھ ورد پوچھنے اور کرنے شروع کر دیئے۔اور مقصد یہی تھا کہ مرشد کامل اور سید مل جاوے۔چنانچہ کافی عرصے تک چلوں اور وردوں کی دھن لگی رہی اور کرتا رہا۔قبرستانوں میں، دریاؤں میں، کنوؤں پر اور پہاڑوں میں، بزرگوں کے مزاروں پر، غرضیکہ راتوں کو بھی خفیہ جگہوں پر جا جا کر چالیس چالیس دن چلے گئے۔یعنی کہ ایک شوق تھا، لگن تھی کہ بہر حال کسی پیر و مرشد کو میں نے تلاش کرنا ہے۔کچھ نہ بنا۔آخر ایک روز مایوس ہوکر لیٹ گیا اور سو گیا۔نیند میں ایک بزرگ کو دیکھا اس نے تسلی دی کہ بیٹا تمہیں جو مرشد ملے گا وہ سب کا مرشد ہوگا۔اس کے ہوتے ہوئے سب پیر اور مرشد مات ہو جائیں گے۔یہ نظارہ دیکھ کر دل کو تسلی ہوگئی اور یقین ہو گیا کہ مرشد کامل انشاء اللہ مل جاوے گا۔آخر شروع 1905 ء میں ایک رات میں نے دیکھا کہ ایک وسیع میدان ہے جو کہ بالکل صاف اور پاکیزہ کیا گیا ہے جیسے ایک بہت بڑا جلسہ گاہ ہو۔نہایت صاف اور اس میں ایک سٹیج اونچی اور بادشاہوں کے لائق جس کی تعریف میرے جیسے کم علم سے نہیں ہوسکتی ، تیار ہے۔مجھ کو یہ شخص کہہ رہا ہے کہ یہاں آج کل نبیوں علیہم الصلوۃ والسلام کا اجتماع ہے۔اور رسول کریم یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آج اپنے پیارے بیٹے کو تخت پر بٹھانے آئیں گے۔تو میں خوشی میں اچھلتا ہوں اور نہایت تیزی سے دوڑتا ہوا اس میدان میں سٹیج کے عین قریب سب سے پہلے ہانپتا ہوا اور سانس پھولا ہوا پہنچ گیا۔تھوڑی دیر