سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 292
292 سبیل الرشاد جلد چہارم سناؤ۔چنانچہ خاکسار نے اس شعر کو پھر دہرا کر پڑھا۔اس کے بعد یہ شعر مجھے اب تک یاد ہی رہتا ہے اور جب میں اسے پڑھتا ہوں تو وہ سماں اور منظر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس کا میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔اور اس پیارے مسیح کی فرقت کے باعث طبیعت ایک حزن و غم اور حسرت بھی محسوس کرتی ہے۔سو یہ شعر بھی میرے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یادگاروں میں سے بطور ایک یادگار کے ہے۔پھر حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب ابن مکرم شیخ با بو جمال الدین صاحب روایت کرتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے 1898 ء کے قریب حضرت اقدس کی بیعت کی تھی۔وہ دمیلی میں سٹیشن ماسٹر تھے۔جہلم کے پاس ایک جگہ ہے۔وہاں ایک شخص نے حضرت اقدس کا ذکر کیا۔انہوں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ قادیان جا کر اس شخص کو ضرور دیکھنا ہے۔چنانچہ وہ رخصت لے کر گوجرانوالہ آئے اور یہاں سے قادیان گئے۔بغیر کسی دلیل کے حضرت اقدس کا چہرہ دیکھ کر ہی وہ ایمان لے آئے۔صاف دل کو کثرتِ اعجاز کی حاجت نہیں۔يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوحِي عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ کا ایک نظارہ حضرت میاں ابراہیم صاحب ابن مکرم محمد بخش صاحب روایت کرتے ہیں کہ میں نے سب سے پہلے حضرت اقدس کو اس وقت دیکھا جبکہ حضور جہلم تشریف لے جارہے تھے ، واپسی پر بھی دیکھا تھا۔پھر لاہور 1904ء میں، پھر 1905ء میں قادیان گیا۔قادیان جانے سے پہلے مجھے ایک خواب آئی تھی جس کا مفہوم یہ تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ والد صاحب گھر سے باہر گئے ہوئے ہیں اور گھر میں صرف میں اور میری چھوٹی ہمشیرہ ہیں۔دیکھا کہ دو آدمی دروازے پر آئے ، دستک دی اور آواز دی میں نے باہر نکل کر دروازہ کھولا۔وہ دونوں میری درخواست پر اندر تشریف لے آئے۔میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر کے صحن میں ایک دری اور تین کرسیاں بھی پڑی ہوئی ہیں اور سامنے ایک میز بھی پڑی ہوئی ہے۔میں نے ان کرسیوں پر بٹھا دیا اور چھوٹی ہمشیرہ کو کہا کہ ان کے لئے چائے تیار کرو۔وہ کو ٹھے پر ایندھن لینے کے لئے گئی۔ابھی وہ سیٹرھیوں پر ہی تھیں کہ ایک سیاہ رنگ کا اچھے قدوقامت کا سانڈ اندر آ گیا۔بڑا سارا بیل اور ان آدمیوں کو دیکھ کر فور اواپس ہو گیا۔اور سیڑھیوں پر چڑھنے لگا۔میں نے شور ڈال دیا کہ میری ہمشیرہ کو مار دے گا۔شور سن کر پہلے سیاہ داڑھی والے مہمان اٹھنے لگتے ہیں مگر سرخ داڑھی والے نے کہا کہ چونکہ یہ کام آپ نے میرے سپرد کیا ہوا ہے اس لئے میرا کام ہے۔چنانچہ وہ گئے۔میں بھی پیچھے ہو لیا۔ہمشیرہ دیوار کے ساتھ لگ گئی۔اور اسے کچھ خراشیں لگی ہیں مگر زخم نہیں لگا۔ہم اوپر چلے گئے۔سانڈھ ہماری مغربی دیوار پر انجن کی شکل میں تبدیل ہو گیا۔اور دیوار پر آگے پیچھے چلنے لگا۔کہتے ہیں جب دیوار کے آخری کونے پر پہنچا تو اس پر مہمان نے سوٹا مارا اور پیچھے کی طرف گر کر چور چور ہو گیا۔ہم واپس آگئے اور وہ مہمان پھر کرسی پر بیٹھ گئے اور چائے پی۔مجھے بھی انہوں نے پلائی۔