سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 76
76 سبیل الرشاد جلد چہارم آج کل پھر اخباروں میں مذہبی آزادی کے اوپر ایک بات چیت چل رہی ہے۔اسی طرح دوسرے ملکوں میں بھی جہاں جہاں یہ اعتراضات ہوتے ہیں۔وہاں بھی اخباروں میں یا انٹرنیٹ پر خطوط کی صورت میں لکھے جا سکتے ہیں۔یہ خطوط گو ذیلی تنظیموں کے مرکزی انتظام کے تحت ہوں گے لیکن یہ ایک ٹیم کی Effort نہیں ہوگی بلکہ لوگ اکٹھے کرنے ہیں۔انفرادی طور پر ہر شخص خط لکھے یعنی 100 خدام اگر جواب دیں گے تو اپنے اپنے انداز میں۔خط کی صورت میں کوئی تاریخی ، واقعاتی گواہی دے رہا ہوگا اور کوئی قرآن کی گواہی بیان کر کے جواب دے رہا ہو گا۔اس طرح کے مختلف قسم کے خط جائیں گے تو اسلام کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک تصویر واضح ہوگی۔ایک حسن ابھرے گا اور لوگوں کو بھی پتہ لگے گا کہ یہ لوگ کس حسن کو اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سے ماند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ جو تصور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کے لئے مسلمانوں کے پاس دلیل نہیں ہے اس لئے جلد غصے میں آ جاتے ہیں۔اس کو بھی اس سے رد کرنا ہو گا۔ہمارے پاس تو اتنی دلیلیں ہیں کہ ان کے پاس اتنی اپنے دفاع کے لئے نہیں ہیں۔لیکن کیونکہ مسلمان تمام انبیاء کو مانتے ہیں۔اس لئے انبیاء کے خلاف تو کوئی بات کر نہیں سکتے اور یہ لوگ بے شرم ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیچڑ اچھالنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کے شر سے پناہ دے " خطبات مسرور جلد 3 صفحه 105-106 ) خلیفہ وقت کے خطبات کو با قاعدہ سنیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 3 مئی 2005 ء کو نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ کینیا مشرقی افریقہ کی میٹنگ میں شمولیت فرما کر درج ذیل ہدایات اراکین کو دیں۔صدر مجلس انصار اللہ کے انتخاب کے طریق کار کے بارہ میں حضور انور نے ان کو سمجھایا اور تفصیل کے ساتھ ان کو بتایا کہ کس طرح صدر کا انتخاب ہوتا ہے۔حضور نے ہدایت فرمائی کہ اپنی رپورٹس میں جماعتوں کی بجائے مجالس کا لفظ استعمال کیا کریں۔حضور انور نے قائد عمومی کو ہدایت فرمائی کہ تمام مجالس سے رابطہ رکھنا ، یاد دہانیاں کروانا اور ان سے ماہانہ رپورٹس کا حصول اس شعبہ کی فرمہ داری ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ مجلس انصار اللہ براہ راست خلیفہ اسیح کے ماتحت ہے اس لئے آپ نے مجلس عاملہ انصار اللہ کی ماہانہ رپورٹ باقاعدگی سے خلیفہ اسی کو بھجوانی ہے۔فرمایا رپورٹ باقاعدگی سے ہر ماہ بھجوائیں۔یہ نہیں کہ چند ماہ کی اکٹھی بھجوادی یا سال کے بعد بھجوادی یہ طریق درست نہیں ہے۔حضور انور نے تمام قائدین کو ہدایت فرمائی کہ اپنے اپنے شعبوں میں فعال اور مستعد ہوں اور اپنی مجالس