سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 75

سبیل الرشاد جلد چہارم 75 ذیلی تنظیمیں چندہ وقف جدید اور چندہ دہندگان میں اضافہ کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مورخہ 7 جنوری 2005 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" وقف جدید کے ضمن میں احمدی ماؤں سے میں یہ کہتا ہوں کہ آپ لوگوں میں یہ قربانی کی عادت اس طرح بڑھ بڑھ کر اپنے زیور پیش کرنا آپ کے بڑوں کی نیک تربیت کی وجہ سے ہے۔اور سوائے استثناء کے الا ماشاء الله ، جن گھروں میں مالی قربانی کا ذکر اور عادت ہو ان کے بچے بھی عموماً قربانیوں میں آگے بڑھنے والے ہوتے ہیں۔اس لئے احمدی مائیں اپنے بچوں کو چندے کی عادت ڈالنے کے لئے وقف جدید میں شامل کریں۔حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان میں بچوں کے ذمہ وقف جدید کیا تھا۔اور اُس وقت سے وہاں بچے خاص شوق کے ساتھ یہ چندہ دیتے ہیں۔اگر باقی دنیا کے ممالک بھی اطفال الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ کو خاص طور پر اس طرف متوجہ کریں تو شامل ہونے والوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ چندے میں بھی اضافہ ہوگا اور سب سے بڑا مقصد جو قربانی کا جذ بہ دل میں پیدا کرنا ہے وہ حاصل ہوگا۔انشاء اللہ۔اگر مائیں اور ذیلی تنظیمیں مل کر کوشش کریں اور صحیح طریق پر کوشش ہو تو اس تعداد میں آسانی سے ( جو موجودہ تعداد ہے ) دنیا میں 6لاکھ کا اضافہ ہو سکتا ہے، بغیر کسی دقت کے۔اور یہ تعداد آسانی سے 10 لاکھ تک پہنچائی جاسکتی ہے۔کیونکہ موجودہ تعداد 4 لاکھ کے قریب ہے جیسا کہ میں آگے بیان کروں گا" (خطبات مسرور جلد 3 صفحہ 9) اسلام اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر غیروں کے اعتراضات کا خطوط کے ذریعہ اخبارات میں جواب دینے کی ذیلی تنظیموں کو تلقین حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 18 فروری2005 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔ایسے لوگ جو یہ لغویات، فضولیات اخبارات میں لکھتے رہتے ہیں۔اس کے لئے گزشتہ ہفتے بھی میں نے کہا تھا کہ جماعتوں کو انتظام کرنا چاہئے۔مجھے خیال آیا کہ ذیلی تنظیموں خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ کو بھی کہوں کہ وہ بھی ان چیزوں پر نظر رکھیں کیونکہ لڑکوں، نوجوانوں کی آج کل انٹرنیٹ اور اخباروں پر توجہ ہوتی ہے، دیکھتے بھی رہتے ہیں اور ان کی تربیت کے لئے بھی ضروری ہے کہ نظر رکھیں اور جواب دیں۔اس لئے یہاں خدام الاحمد یہ بھی کم از کم 100 ایسے لوگ تلاش کرے جو اچھے پڑھے لکھے ہوں جو دین کا علم رکھتے ہوں۔اور اسی طرح لجنہ اپنی 100 نوجوان بچیاں تلاش کر کے ٹیم بنائیں جو ایسے مضمون لکھنے والوں کے جواب مختصر خطوط کی صورت میں ان اخبارات کو بھیجیں جن میں ایسے مضمون آتے ہیں یا خطوط آتے ہیں۔