سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 412
سبیل الرشاد جلد چہارم 412 کون سا ڈکٹیٹر ہے جو اپنے ملک کی رعایا سے ذاتی تعلق بھی رکھتا ہو۔خلیفہ وقت کا تو دنیا میں پھیلے ہوئے ہر قوم اور ہر نسل کے احمدی سے ذاتی تعلق ہے۔ان کے ذاتی خطوط آتے ہیں جن میں ان کے ذاتی معاملات کا ذکر ہوتا ہے۔ان روزانہ کے خطوط کو ہی اگر دیکھیں تو دنیا والوں کے لئے ایک یہ نا قابل یقین بات ہے۔یہ خلافت ہی ہے جو دنیا میں بسنے والے ہر احمدی کی تکلیف پر توجہ دیتی ہے۔ان کے لئے خلیفہ وقت دعا کرتا ہے۔کون سا دنیا وی لیڈر ہے جو بیماروں کے لئے دعائیں بھی کرتا ہو۔کون سا لیڈر ہے جو اپنی قوم کی بچیوں کے رشتوں کے لئے بے چین اور ان کے لئے دعا کرتا ہو۔کون سا لیڈر ہے جس کو بچوں کی تعلیم کی فکر ہو۔حکومت بیشک تعلیمی ادارے بھی کھولتی ہے۔صحت کے ادارے بھی کھولتی ہے۔تعلیم تو مہیا کرتی ہے لیکن بچوں کی تعلیم جو اس دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی فکر صرف آج خلیفہ وقت کو ہے۔جماعت احمد یہ کے افراد ہی وہ خوش قسمت ہیں جن کی فکر خلیفہ وقت کو رہتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کریں۔ان کی صحت کی فکر خلیفہ وقت کو رہتی ہے۔رشتے کے مسائل ہیں۔غرض کہ کوئی مسئلہ بھی دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا چاہے وہ ذاتی ہو یا جماعتی ایسا نہیں جس پر خلیفہ وقت کی نظر نہ ہو اور اس کے حل کے لئے وہ عملی کوشش کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا نہ ہو۔اس سے دعائیں نہ مانگتا ہو۔میں بھی اور میرے سے پہلے خلفاء بھی یہی کچھ کرتے رہے۔خلیفہ مسیح کے سپر د کاموں کی تفصیل ا میں نے ایک خاکہ کھینچا ہے بے شمار کاموں کا جو خلیفہ وقت کے سپر د خدا تعالیٰ نے کئے ہیں اور انہیں اس نے کرنا ہے۔دنیا کا کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشم تصور میں میں نہ پہنچتا ہوں اور ان کے لئے سوتے وقت بھی اور جاگتے وقت بھی دعا نہ ہو۔یہ میں باتیں اس لئے نہیں بتا رہا کہ کوئی احسان ہے۔یہ میرا فرض ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ اس سے بڑھ کر میں فرض ادا کرنے والا بنوں۔کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ خلافت اور دنیاوی لیڈروں کا موازنہ ہو ہی نہیں سکتا۔یہ ویسے ہی غلط ہے۔بعض دفعہ دنیا وی لیڈروں سے باتوں میں جب میں صرف ان کو روزانہ کی ڈاک کا ہی ذکر کرتا ہوں کہ اتنے خطوط میں دیکھتا ہوں لوگوں کے ذاتی بھی اور دفتری بھی تو حیران ہوتے ہیں کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔پس کسی موازنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔معروف کی تعریف بعض لوگوں کی اس غلط نبی کو بھی دور کر دوں گو کہ پہلے بھی میں شرائط بیعت کے خطبات کے ضمن میں