سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 413

سبیل الرشاد جلد چهارم 413 اس کا تفصیلی ذکر کر چکا ہوں کہ ہر احمدی خلیفہ وقت سے اس کے معروف فیصلہ پر عمل کرنے کا عہد کرتا ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ معروف کی تعریف انہوں نے خود کرنی ہے۔ان پر واضح ہو کہ معروف کی تعریف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دی ہے۔یہ پہلے ہی تعریف ہو چکی ہے۔معروف فیصلہ وہ ہے جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو۔جس خلافت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق علی منهاج النبوة قائم ہونا ہے، اس طریق کے مطابق چلنا ہے جو نبوت قائم کر چکی ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق یہ دائمی بھی ہے جو آپ کے کام کو آگے چلانے کے لئے ہے وہ قرآن وسنت کے منافی یا خلاف کوئی کام کر ہی نہیں سکتی اور یہی معروف ہے۔معروف سے یہاں یہ مراد ہے۔پس اطاعت کے بغیر دوسروں کے لئے اور کوئی راستہ نہیں ہے۔یا پھر قرآن وسنت سے جو اختلاف کرنے والے ہیں یہ ثابت کریں کہ خلیفہ وقت کا فلاں فیصلہ یا فلاں کام قرآن وسنت کے منافی ہے۔یہاں یہ بھی بتا دوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا ہے کہ خلفاء راشدین کے فیصلے اور عمل اور سنت بھی تمہارے لئے قابل اطاعت ہیں۔ان پر چلو۔(سنن ابی داؤد كتاب السنة باب في لزوم السنة حديث 4607) پس یہ ثابت کرنے کے لئے کہ فیصلے غلط ہیں پہلے بہت کچھ سوچنا ہوگا۔جماعت میں رہتے ہوئے اگر کوئی بات کرنی ہے تو پھر ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے خلیفہ وقت کولکھنا ہوگا۔لکھنے کی اجازت ہے۔ادھر اُدھر باتیں کرنے کی اجازت نہیں۔یہاں سے وہاں بیٹھ کر غلط قسم کی افواہیں پھیلانے کی اجازت نہیں ہے۔تا کہ اگر سمجھنے والے کی سمجھ میں غلطی ہے تو خلیفہ وقت اس کو دور کر سکے اور اگر سمجھے کہ اس غلطی کو جماعت کے سامنے بھی رکھنے کی ضرورت ہے تو تمام جماعت کو بتائے۔جماعت جب بڑھتی ہے تو منافقین بھی اپنا کام کرنا چاہتے ہیں۔حاسدین بھی اپنا کام کرتے ہیں۔خلافت سے کچی وفا یہ ہے کہ ان کے منصوبوں کو ہر سطح پر نا کام بنائیں اور خلافت سے جو بعض بدظنیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیں۔ایک ایمان افروز واقعہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کا ایک واقعہ ہے جو قرآن کریم کا ترجمہ انگلش میں کرنے کے لئے لندن آ رہے تھے تو بمبئی سے غالبا ان کی روانگی تھی۔وہاں پہنچے تو جمعہ کا دن آ گیا۔جماعت نے درخواست کی کہ آج جمعہ ہے آپ جمعہ پڑھا ئیں۔قادیان سے آئے ہیں بزرگ ہیں صحابی ہیں ہم بھی آپ سے کوئی فیض پالیں۔نہ جماعت والے آپ کو جانتے تھے، نہ کبھی دیکھا تھا، نہ آپ کسی کو جانتے تھے۔آپ نے خطبہ دیا کہ دیکھو تم مجھے جانتے نہیں ہو۔بعضوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہوا۔تم نے مجھے جمعہ کے لئے کھڑا کر دیا۔آج اپنا امام بنا دیا۔اسلامی تعلیم یہ ہے کہ اگر امام نماز پڑھاتے ہوئے کوئی غلطی کرے تو تم نے سبحان اللہ کہہ دینا ہے