سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 411

411 سبیل الرشاد جلد چهارم میں سوال کی بات کر رہا ہوں جو مجھ تک پہنچے ہیں اگر یہ باتیں صحیح ہیں کہ یہ سوال اٹھانے والے اٹھاتے ہیں کہ کامل اطاعت شاید نقصان دہ ہے۔اور ایسے لوگوں کی یہ سوچ شاید اس لئے ہے جو کامل اطاعت کو نقصان دہ سمجھتے ہیں کہ یہاں جرمنی میں ہٹلر نے اپنا ہر حکم منوایا اور ڈکٹیٹر بن کر رہا اس لئے دوسری جنگ عظیم میں یہ تصور ہے، یہ تاثر ہے کہ اس وجہ سے ہماری یعنی جرمنی کی شکست بھی ہوئی۔ان کو نقصان اٹھانا پڑا سیکی اٹھانی پڑی۔خلافت اور ڈکٹیٹر شپ میں فرق میں یہاں ہر احمدی اور ہر نئے آنے والے اور ہر نو جوان پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امامت اور خلافت اور ڈکٹیٹر شپ میں بڑا فرق ہے۔خلافت زمانے کے امام کو ماننے کے بعد قائم ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق قائم ہوئی ہے اور ہر مانے والا یہ عہد کرتا ہے کہ ہم خلافت کے نظام کو جاری رکھیں گے۔دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔جب اپنی خوشی سے دین کو مان لیا تو پھر دین کے قیام کے لئے اس عہد کو نبھانا بھی ضروری ہے جو خلافت کے قیام کے لئے ایک احمدی کرتا ہے اور جو قومی یکجہتی کے لئے وحدت کے لئے ضروری ہے۔خلافت کی اطاعت کے عہد کو اس لئے نبھانا ہے کہ ایک امام کی سرکردگی میں خدا تعالیٰ کی حکومت کو دنیا کے دلوں میں بٹھانے کی مشترکہ کوشش کرنی ہے۔دوسرے مسلمان جو ہیں وہ بغیر امام کے ہیں اور جماعت احمدیہ کی کوششیں جو ہیں وہ خلافت سے وابستہ ہو کر ہو رہی ہیں۔یہ سب کوششیں جو خلافت سے وابستہ ہو کر ہو رہی ہیں ان کی کامیابی کے نتائج بتا رہے ہیں کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کے ساتھ (حقیقی تعلیم دوسرے مسلمانوں کے پاس بھی ہے لیکن اسلام کی حقیقی تعلیم کے ساتھ ) ان نتائج کا حصول، کامیابی کا حصول خلافت کی لڑی میں پروئے جانے کی وجہ سے ہے۔پھر خلافت کا مقصد حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھر پور توجہ دینا ہے۔ان حقوق کو منوانا اور قائم کرنا اور مشترکہ کوشش سے ان کی ادائیگی کی کوشش کرنا ہے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے لئے افراد جماعت میں یہ روح پیدا کرنا ہے۔ان کو توجہ دلانا ہے کہ دین بہر حال دنیا سے مقدم رہنا چاہئے اور اسی میں تمہاری بقا ہے۔اس میں تمہاری نسلوں کی بقا ہے۔یہ ایک روح پھونکنا بھی خلافت کا کام ہے۔توحید کے قیام کے لئے بھر پور کوشش یہ بھی خلافت کا کام ہے۔جبکہ دنیا وی لیڈروں کے تو دنیاوی مقاصد ہیں۔ان کا کام تو اپنی دنیاوی حکومتوں کی سرحدوں کو بڑھانا ہے۔اس کی ان کو فکر پڑی رہتی ہے۔ان کا کام تو سب کو اپنے زیر نگیں کرنا ہے۔دنیا میں آپ دیکھیں اپنے ملکوں کی حدوں سے باہر نکل کر بھی دوسرے ملکوں کی آزادیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں چاہے وہ ڈکٹیٹر ہوں یا سیاسی حکومتیں ہوں۔دنیاوی لوگوں کا تو یہ کام ہے۔ان کا کام تو جھوٹی اناؤں اور عزتوں کے لئے انصاف کی دھجیاں اڑانا ہے جو ہمیں مسلمان دنیا میں بھی اور باقی دنیا میں بھی نظر آتی ہے۔