سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 353

353 سبیل الرشاد جلد چہارم کو یا ووٹ دینے والوں کو منتخب کرنا چاہئے۔یا دوسرے لفظوں میں جن کا تقویٰ کا معیار بلند ہو انہیں عہد یدار بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہمارا دعویٰ اس زمانے کے امام کو مان کر تقویٰ کے معیاروں کو بلند کرنے کا ہے، اپنے ذمہ کی گئی امانتوں کا دوسروں سے بڑھ کر حق ادا کرنے کا یہ دعوی ہے تو ہمیں بہت فکر سے اپنی جماعتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِيْنَ هُمْ لا مَنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَعُونَ (المؤمنون: 9) اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔اپنے سپرد کی گئی امانتوں کو سرسری طور پر ادا نہیں کرنا بلکہ گہرائی میں جا کر تمام باریکیوں کو سامنے رکھ کر اپنے کام سرانجام دیتے ہیں۔پس منتخب کرنے والوں کو بھی ایسے لوگوں کو منتخب کرنا چاہئے جو اپنے کاموں میں سنجیدہ ہوں اور منتخب شدہ لوگوں کو بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ذمہ داریوں کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد کیا ہے سب سے زیادہ اُس کی پابندی عہدیداران کو کرنی چاہئے ، چاہے وہ کسی بھی سطح کے عہدیدار ہوں۔عہدے کی خواہش اسلامی تعلیم کے خلاف ہے عہدے یا خدمت کرنے کی خواہش کا جذبہ تو جیسا کہ میں نے کہا بہت رکھتے ہیں حالانکہ عہدے کی خواہش تو ہونی بھی نہیں چاہئے۔یہ تو ویسے ہی اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔اگر خدمت کا جذبہ ہے اور اس کی خواہش ہے تو پھر جو خدمت سپرد کی جائے یا کوئی عہدہ سپرد کیا جائے تو پھر خدمت کرنے والوں کو عہد یداروں کو یا درکھنا چاہئے کہ اپنے تمام عہد پورے کئے بغیر کام نہیں ہو سکتا۔اور عہد کس طرح پورے ہوں گے؟ اور کس معیار سے پورے ہوں گے؟ اور کیا معیار اس کا ہونا چاہئے؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : خدا تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا ہے۔( یعنی آیت کریمہ ) وَالَّذِينَ هُمْ لِامْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رعُون۔۔۔جوصرف اپنے نفس میں یہی کمال نہیں رکھتے جونفس امارہ کی شہوات پر غالب آگئے ہیں اور اس کے جذبات پر اُن کو فتح عظیم حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ حتی الوسع خدا اور اُس کی مخلوق کی تمام امانتوں اور تمام عہدوں کے ہر ایک پہلو کا لحاظ رکھ کر تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور جہاں تک طاقت ہے اُس راہ پر چلتے ہیں" ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 207 ) فرمایا: " لفظ ”راعون جو اس آیت میں آیا ہے جس کے معنی ہیں رعایت رکھنے والے۔یہ لفظ عرب کے محاورہ کے موافق اُس جگہ بولا جاتا ہے جہاں کوئی شخص اپنی قوت اور طاقت کے مطابق کسی امر کی باریک راہ پر