سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 354

354 سبیل الرشاد جلد چہارم چلنا اختیار کرتا ہے اور اس امر کے تمام دقائق بجالانا چاہتا ہے۔(یعنی باریک ترین پہلو بجالانا چاہتا ہے )۔اور کوئی پہلو اس کا چھوڑنا نہیں چاہتا۔پس اس آیت کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ وہ مومن جو۔۔۔حتی الوسع اپنی موجودہ طاقت کے موافق تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارتے ہیں اور کوئی پہلو تقوی کا جو امانتوں یا عہد کے متعلق ہے، خالی چھوڑنا نہیں چاہتے اور سب کی رعایت رکھنا اُن کا ملحوظ نظر ہوتا ہے اور اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ موٹے طور پر اپنے تئیں امین اور صادق العہد قرار دے دیں“۔( اپنے آپ کو امین سمجھیں یا وعدے پورے کرنے والا قرار دے دیں بلکہ ڈرتے رہتے ہیں کہ در پردہ اُن سے کوئی خیانت ظہور پذیر نہ ہو۔پس طاقت کے موافق اپنے تمام معاملات میں توجہ سے غور کرتے رہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ اندرونی طور پر اُن میں کوئی نقص اور خرابی ہو اور اسی رعایت کا نام دوسرے لفظوں میں تقویٰ ہے" (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 208-207) پھر آپ فرماتے ہیں۔" خلاصہ مطلب یہ کہ وہ مومن جو اپنے معاملات میں خواہ خدا کے ساتھ ہیں، خواہ مخلوق کے ساتھ بے قید اور خلیج الرسن نہیں ہوتے بلکہ اس خوف سے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی اعتراض کے نیچے نہ آجاویں اپنی امانتوں اور عہدوں میں دُور دُور کا خیال رکھ لیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی امانتوں اور عہدوں کی پڑتال کرتے رہتے ہیں اور تقویٰ کی دُور بین سے اُس کی اندرونی کیفیت کو دیکھتے رہتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ در پردہ اُن کی امانتوں اور عہدوں میں کچھ فتور ہو۔اور جو امانتیں خدا تعالیٰ کی اُن کے پاس ہیں جیسے تمام قومی اور تمام اعضا ءاور جان اور مال اور عزت و غیرہ ان کوحتی الوسع اپنی بپابندی تقویٰ بہت احتیاط سے اپنے اپنے محل پر استعمال کرتے رہتے ہیں اور جو عہد ایمان لانے کے وقت خدا تعالیٰ سے کیا ہے کمال صدق سے حتی المقدور اُس کے پورا کرنے کے لئے کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ایسا ہی جو امانتیں مخلوق کی اُن کے پاس ہوں یا ایسی چیزیں جو امانتوں کے حکم میں ہوں، اُن سب میں تابمقدور تقویٰ کی پابندی سے کار بند ہوتے ہیں۔اگر کوئی تنازع واقع ہو تو تقویٰ کو مد نظر رکھ کر اُس کا فیصلہ کرتے ہیں۔گو اس فیصلہ میں نقصان اُٹھالیں۔۔۔" فرمایا۔۔۔انسان کی تمام روحانی خوبصورتی تقوی کی تمام باریک راہوں پر قدم مارنا ہے۔تقویٰ کی باریک راہیں روحانی خوبصورتی کے لطیف نقوش اور خوش نما خط و خال ہیں۔اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضاء ہیں، جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قو تیں اور اخلاق ہیں۔ان کو جہاں تک طاقت ہو، ٹھیک ٹھیک محلتِ ضرورت پر استعمال کرنا اور نا جائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق العباد کا بھی لحاظ رکھنا، یہ وہ طریق ہے کہ انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے۔اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا