سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 352
352 سبیل الرشاد جلد چہارم لیکن خلیفہ وقت کو اگر غلط رپورٹ ہوگی تو خلیفہ وقت سے بھی غلط فیصلہ ہو جائے گا اور غلط فیصلہ کروا کر اُسے بھی اپنے ساتھ گنہ گار بنا رہے ہوں گے اور خود تو خیر بن ہی رہے ہوں گے۔پس ہمیشہ جماعتی کاموں میں ان چیزوں کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ہر کام، ہر خدمت جو دی جائے، اُس کو انتہائی سوچ بچار کر اور ایمانداری سے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پس عہدے کوئی بڑائی نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔دعاؤں کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو نبھانے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ سمیع ہے، وہ تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے، خاص طور پر جب خدا تعالیٰ کے حکموں پر پورا اترنے کی دعائیں کی جائیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور شامل حال ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ جس طرح رائے دینے والے پر ، ووٹ دینے والے پر گہری نظر رکھنے والا ہے، اُسی طرح عہد یدار پر بھی اُس کی گہری نظر ہے۔اگر اپنی ذمہ داری نہیں نبھائیں گے، اگر عدل اور انصاف سے فیصلے نہیں کریں گے ، اگر اپنے کاموں کو اُن کا حق ادا کرتے ہوئے نہیں بجالائیں گے تو پھر خدا تعالیٰ جو ہر چیز کو دیکھ رہا ہے ، وہ فرماتا ہے پھر تم پوچھے بھی جاؤ گے۔تمہاری جواب طلبی ہوگی۔پس یہ ہر اس شخص کے لئے بہت خوف کا مقام ہے جس کے سپر د کوئی نہ کوئی خدمت کی جاتی ہے۔لوگوں کو عہدوں کی بڑی خواہش ہوتی ہے۔لیکن اگر اُن کو پتہ ہو کہ یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور اس کا حق ادا نہ کرنے پر خدا تعالیٰ کی ناراضگی بھی ہو سکتی ہے اور اس کی گرفت بھی ہوسکتی ہے تو ہر عہد یدار سب سے بڑھ کر ، دوسروں سے بڑھ کر دن اور رات استغفار کرنے والا ہو۔عہدیدار منظوری آنے کے بعد بندھن میں بندھ جاتا ہے ہر عہدیدار کو یاد رکھنا چاہئے کہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد یا عہدہ کی منظوری آجانے کے بعد وہ آزاد نہیں ہو گیا۔بلکہ ایسے بندھن میں بندھ گیا ہے جس کو نہ نبھانے کی صورت میں یا اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کے مطابق نہ بجالانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لینے والا بھی ہوسکتا ہے۔ہر عہد یدار نے ہر فر د جماعت کا حق بھی ادا کرنا ہے اور جماعت کا مجموعی طور پر بحیثیت جماعت بھی حق ادا کرنا ہے۔کیونکہ ہر عہد یدار کو یہ سوچنا چاہئے کہ میں ایک جماعتی عہدیدار ہوں اور کسی بھی قسم کی میری کمزوری جماعت کو متاثر کر سکتی ہے یا جماعت کے نام کو بدنام کرنے والی ہو سکتی ہے۔اس لئے اُسے یہ حق بھی ادا کرنے والا ہونا چاہئے اور پھر اپنے نمونے قائم کرتے ہوئے دینی حقوق کے ساتھ ساتھ دنیاوی حقوق کی بھی مثال قائم کرنی چاہئے۔یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے، ہمیں اس میں جو مرضی کروں۔جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس لئے مجھے آزادی ہے جو چاہوں میں کروں۔ہر عہدیدار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اُس کی ذات بھی اب ہر معاملے میں جماعتی مفادات کے تابع ہے۔پس یہ سوچ ہے جو ہر عہدیدار کو پیدا کرنی چاہئے اور ایسی سوچ رکھنے والوں کو ہی حق رائے دینے والوں