سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 341
341 سبیل الرشاد جلد چہارم سال ساڑھے چھ لاکھ کی وصولی ہوئی تھی۔اس دفعہ ہمارا پلان ہے کہ ایک ملین یور و جمع کروائیں گے۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک ملین یوروز کم از کم ٹارگٹ ہے۔آپ اس کو بڑھا بھی سکتے ہیں۔آپ کی ایک percentage بوڑھوں کی ایسی ہے جو کام نہیں کرتی اور سوشل الاؤنس لیتی ہے اور خرچ کچھ نہیں کرتے۔اپنے پیسے بچاتے ہیں۔سوشل الاؤنس لیتے ہیں اور خرچہ کوئی نہیں سوائے اس کے کہ کوئی زبر دستی ناخلف بچے چھین لیں۔اس کے علاوہ کمانے والے اور کام کرنے والے انصار کی بھی اچھی خاصی percentage ہے جو معیاری چندہ ادا کر سکتی ہے۔اس کیلئے ایک سکیم بنائیں کہ کس طرح آپ مساجد کی تعمیر کیلئے فنڈز generate کر سکتے ہیں۔خدام الاحمدیہ اور لجنہ کو بھی چاہئے کہ اپنی سکیم بنا ئیں۔سٹال لگائیں یا پھر کچھ اور پروگرام رکھیں۔ایسے انصار جو فارغ ہیں ان کو کہیں کہ جا کر مارکیٹ میں بیٹھیں۔ہفتہ میں دو دن سٹال لگائیں۔ان کی انکم ہو اور وہ جمع کروائیں۔آپ تجربہ کر کے دیکھیں اور ان سالوں سے جو انکم ہو وہ مسجد فنڈ میں جائے۔چاہے وہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔ایک احساس تو ہوگا کہ ہم حصہ ڈال رہے ہیں۔صدر صاحب انصار اللہ نے عرض کیا کہ ایک بات سامنے آئی ہے کہ جن جماعتوں میں مساجد بن جاتی ہیں ان کی طرف سے چندہ میں کمی آجاتی ہے۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ توجہ دلائیں، احساس پیدا کریں۔دو چار مقرر ایسے پیدا کریں جو تقریر کرسکیں۔ان جماعتوں میں ان مقررین کو بھیجا کریں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پاکستان میں دو تین ایسے لوگ ہیں جو چندہ اکٹھا کرنے کے حوالہ سے سارے پاکستان میں جماعتوں کو mobilize کرتے ہیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک تو جماعتوں کے اندر اعتماد پیدا کریں۔ان سے پیار اور محبت سے بات کریں۔ان کو یہ realize کروائیں کہ یہ اخراجات genuine ہیں۔مجھے بھی لوگ لکھتے رہتے ہیں اور بعض اپنے تحفظات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔جب یہ اعتماد قائم ہو جائے گا تو پھر آپ کو چندے بھی آنا شروع ہو جائیں گے۔اللہ کے فضل سے اس کے باوجود کہ لوگوں کو شکوے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی چندے دیتے ہیں۔لیکن آپ اس میں محبت اور پیار سے مزید بہتری پیدا کر سکتے ہیں۔ذیلی تنظیمیں بھی مرکز سے اجازت حاصل کر کے مرکزی کتب شائع کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ یہ جو Pathway to Peace کتاب ہے جس میں چار پانچ مختلف ایڈریسز ہیں اور جو خطوط میں نے سربراہانِ مملکت کو لکھے تھے وہ بھی اس میں شامل ہیں۔انصار اللہ یو کے نے یہ کتاب از خود پانچ ہزار کی تعداد میں تقسیم کی ہے اور اب انصار اللہ یو کے از خود آٹھ ہزار کی تعداد میں یہ کتاب چھپوا رہی ہے اور پھر یہ قسیم بھی کریں گے۔اسی طرح یہاں بھی انصار اللہ کو کرنا چاہئے۔