سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 309
309 سبیل الرشاد جلد چہارم اپنا نیک نمونہ ان کے سامنے پیش کریں اور ان کے لئے دعائیں کریں۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں۔بعض لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اولاد کے لئے کچھ مال چھوڑنا چاہئے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ مال چھوڑنے کا تو ان کو خیال آتا ہے۔مگر یہ خیال ان کو نہیں آتا کہ ایسے لوگ اولاد کے لئے مال جمع کرتے ہیں اور اولاد کی صلاحیت کی فکر اور پر واہ نہیں کرتے۔وہ اپنی زندگی ہی میں اولاد کے ہاتھ سے نالاں ہوتے ہیں اور اس کی بداطواریوں سے مشکلات میں پڑ جاتے ہیں اور وہ مال جو انہوں نے خدا جانے کن کن حیلوں اور طریقوں سے جمع کیا تھا آخر کار بدکاری اور شراب خوری میں صرف ہوتا ہے۔اور وہ اولاد ایسے ماں باپ کے لئے شرارت اور بدمعاشی کی وارث ہوتی ہے۔اولاد کا ابتلاء بہت بڑا ابتلا ہے۔اگر اولاد صالح ہو تو پھر کس بات کی پرواہ ہوسکتی ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِين (الاعراف: 197) یعنی اللہ تعالیٰ آپ صالحین کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔اگر بد بخت ہے تو خواہ لاکھوں روپیہ اس کے لئے چھوڑ جاؤ وہ بدکاریوں میں تباہ کر کے پھر قلاش ہو جائے گی۔اور ان مصائب اور مشکلات میں پڑے گی جو اس کے لئے لازمی ہیں۔جو شخص اپنی رائے کو خدا تعالیٰ کی رائے اور منشاء سے متفق کرتا ہے وہ اولاد کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ اسی طرح پر ہے کہ اس کی صلاحیت کے لئے کوشش کرے اور دعائیں کرے۔۔۔اولاد کے لئے اگر خواہش ہو تو اس غرض سے ہو کہ وہ خادم دین ہو ( ملفوظات جلد 4 صفحہ : 443-445) یورپ کے ماحول میں بہت سے والدین اپنی اولاد کے متعلق متفکر اور پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ اولا دتو ہے لیکن نا فرمان ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی معاشرہ میں روز مرہ کی زندگی بہت آسان اور سہولیات سے پر ہے۔جو تربیت کا زمانہ ہوتا ہے اس وقت غفلت برتی جاتی ہے اور جب ہاتھ سے نکلنے لگتی ہے تو اس وقت بے بسی کی کیفیت ظاہر کرتے ہیں۔مومن تو آسائش کے وقت بھی خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کی نعمتوں کے شکر سے غافل نہیں ہوتے۔اس لئے اپنی اولاد کی تربیت کی فکر کریں اور ان پر معاشرے کے غلط رنگ کبھی نہ چڑھنے دیں۔انہیں تقویٰ کے رنگوں سے مزین کریں۔انہیں نمازوں کا عادی بنائیں۔روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔ان کی نیکیوں اور دین کی خدمت کی باتیں آپ کے لئے فخر کا باعث ہونی چاہئیں۔اگر آپ منتقی اور دیندار اولاد چھوڑ جائیں تو یہی وہ متاع ہے جو آخرت میں بھی آپ کے کام آئے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس جو ابھی آپ نے سنا ہے اس کو سامنے رکھ کر اپنی