سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 289

289 سبیل الرشاد جلد چہارم تھا یعنی اس کا نائب۔اس سے میں نے پوچھا کہ مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے بارہ میں آپ کو کوئی واقفیت ہے؟ اس نے کہا پہلے تو نور علی نور تھا۔بڑی عبادت کیا کرتا تھا۔مگر اب اسے غلطی لگ گئی ہے۔پھر ایک اور فقیر سے پوچھا کہ کیا آپ احمدی ہیں؟ کہنے لگا نہیں۔میں نے کہا کیوں؟ کہنے لگا مجھ پر مرزا صاحب کے رشتہ داروں نے دعویٰ کیا تھا کہ جہاں یہ رہتا ہے یہ مکان اس کا نہیں ہے۔میں نے مرزا صاحب کو ہی صفائی میں طلب کر لیا۔مرزا صاحب نے عدالت میں کہہ دیا کہ یہ غریب فقیر ہے ، مکان اس کے پاس ہی رہے تو کیا حرج ہے؟۔اس پر مکان مجھے مل گیا۔مرزا صاحب کے رشتہ دار ان پر بڑے خفا ہوئے۔کہتے ہیں اس پر میں نے اس فقیر سے کہا کہ پھر بھی تجھ پر مرزا صاحب کی سچائی نہیں کھلتی ؟ کہنے لگا بات یہ ہے کہ جو شرطیں لگاتا ہے اس پر چلنا مشکل ہے۔شرائط بیعت بڑی مشکل ہیں۔کہتے ہیں کہ ان دونوں فقیروں کی باتوں سے میں نے اندازہ لگایا کہ جوشخص پہلے نور علی نور تھا اب وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔اس پر میں نے بیعت کر لی اور پھر کئی دفعہ حضور کی زندگی میں قادیان گیا اور سیالکوٹ لیکچر کے موقع پر بھی گیا۔چوہدری عبداللہ خان کی بیعت چوہدری عبداللہ خان صاحب دانہ زید کا ، ان کی بیعت 1902ء کی ہے یہ لکھتے ہیں کہ 1902ء میں یہاں گرمی کے موسم میں دو مولوی آئے۔ایک فضل کریم صاحب مرحوم قلعہ صوبہ سنگھ کے اور دوسرے عبدالحی۔موخر الذکر نے حضرت صاحب کے خلاف ایک کتاب بھی لکھی تھی یہ کفر کی حالت میں ہی مرا ہے۔مگر مولوی فضل کریم صاحب میرے ساتھ ایمان لائے تھے۔یہ دونوں مولوی صاحب ایک رات میرے پاس ٹھہرے۔میں نے حضرت صاحب کے متعلق ان سے دریافت کیا۔پہلے مولوی فضل کریم صاحب بولے اور کہا کہ وہ کافر ہیں۔میں نے کہا کہ تحقیقات کے بغیر کا فر کہنا ٹھیک نہیں ہے۔پھر مولوی عبدالحی صاحب بولے اچھا دوکاندار تو ضرور ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہا کہ وہ دوکاندار تو ضرور ہیں۔میں نے کہا کہ اگر وہ دوکاندار ہوتے تو وہ چیز پیش کرتے جسے ہر شخص خوشی سے لیتا ہے۔ایسا مہنگا سودا پیش نہ کرتے جسے کوئی لیتا ہی نہیں ہے بلکہ الٹی مخالفت ہو رہی ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بھی ہر ایک کو اپنی اپنی دلیل سوجھتی ہے اور بڑی اچھی دلیل ہے یہ۔تو اس واقع کے بعد میرے دل میں بہت تحریک ہوئی اور میں تحقیقات کرتا رہا جنوری یا فروری 1903 میں مولوی فضل کریم صاحب یہاں تشریف لائے میں نے ان کو علیحدگی میں حضرت صاحب کی بابت پوچھا۔انہوں نے جواب دیا کہ جس طرح وہابی لوگوں کو لوگ نا پسند کرتے تھے مگر وہ سچے نکلے۔ایسے ہی گو آج کل مرزا صاحب کی مخالفت کی جارہی ہے مگر آخر یہ بچے ہی نکلیں گے۔اس پر میں نے کہا کہ پھر آپ بیعت کیوں نہیں کر لیتے۔انہوں نے کہا کہ مخالفت بہت ہوگئی ہے۔میں نے کہا میں زمیندار ہوں ، اپنی روزی کما کر کھاتا ہوں اور آپ حکیم ہیں اس لئے آج ہی ہمیں بیعت کا خط لکھنا۔