سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 288
288 سبیل الرشاد جلد چہارم سے دعائیں کرتے ہیں کہ وہ رب العالمین ہے، مالک یوم الدین ہے اور چاہتے ہیں کہ گمراہی کے ازالہ کا اللہ کوئی علاج کرے۔مگر جب اللہ تعالیٰ نے علاج کا سامان کیا ہے تو لوگ منکر ہورہے ہیں۔کیا خدا تعالیٰ ظالم ہے کہ ایک تو امت گمراہ ہو رہی ہو اور دوسرے ان میں ایک دجال کو بھیج کر انہیں اور گمراہ کرے؟ یہ سوچتے نہیں۔اس تقریر کا لوگوں پر اس قدر اثر ہوا کہ بے شمار مخلوق نے بیعت کی۔مجھے چوہدری اللہ دتہ صاحب نے کہا کہ بیعت کرو کیا دیکھتے ہو؟ ان کی تحریک سے میں نے دستی بیعت کر لی۔اس سے پہلے میں حضرت اقدس کی ہر مجمع میں تائید کرتا تھا مگر ابھی تک بیعت نہیں کی تھی۔ہاں ایک بات یاد آئی جب حضرت صاحب فٹن پر سوار ہوئے تو ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا اس نے کہا یہ منہ جھوٹے کا نہیں۔میرے منہ سے حضرت صاحب کو دیکھ کر بے اختیار یہ کلمہ نکلا کہ اس نے کبھی آسمان کو نہیں دیکھا ہوگا۔حضرت صاحب کی نظر اس وقت بھی نچی تھی۔نظریں ہمیشہ نیچی رکھتے تھے، انہوں نے کہا کہ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اتنی نظریں نیچی رکھتے ہیں کبھی آسمان نہیں دیکھا ہوگا۔ایک دفعہ حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی گئی کہ حضور! مکان کے نیچے خلقت بے شمار جمع ہے۔حضور کو دیکھنا چاہتی ہے۔حضور نے کھڑکی میں سے چہرہ مبارک باہر نکالا۔مخلوق اس قد رٹوٹ پڑی کہ قریب تھا کہ کئی لوگ دب کر مر جائیں۔اس پر حضور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ حضور چہرہ مبارک اندر کر لیں ورنہ کوئی حادثہ ہو جائے گا۔چنانچہ حضور نے چہرہ اندر کر لیا۔چوہدری حاکم دین صاحب میانوالی خانوالی کی 1902ء کی بیعت ہے۔روایت کرتے ہیں کہ میرا بھائی احمدی تھا اور مولوی تھا۔ہم حیران ہوتے تھے کہ اس کو کیا ہو گیا، پہلے موحد بنا اب احمدی ہو گیا۔ہمیں اس سے بڑی نفرت ہوگئی۔وہ ہمیں سمجھاتا رہا۔قلعہ صوبہ سنگھ میں مولوی فضل کریم صاحب بھی سمجھانے کے لئے آتے مگر ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی۔پھر ایک مناظرہ ہوا۔احمدیوں کی طرف سے رحیم بخش عرضی نویں پچھو کے کا تھا اور غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی شاہ محمد آف قلعہ میاں سنگھ تھا۔غیر احمدی مولوی صرف رفع الی اللہ کو ہی پیش کرتا تھا مگر احمدی قرآن کریم کی کئی آیتیں پڑھ کر استدلال کرتا تھا۔اس وقت ہمیں سمجھ آئی کہ یہ لوگ بھی مسلمان ہیں۔اس سے پہلے ہم احمدیوں کو عیسائیوں کی طرح سمجھتے تھے۔وہاں ہی میں نے احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھی۔راستہ میں سوچا۔پھر بھائی کے ساتھ قادیان گئے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مولویوں کا جھوٹا پروپیگنڈا جیسا کہ میں نے کہا ہمیشہ ہر وقت چلتا رہتا ہے۔اب دیکھیں کہ انہوں نے تحقیق کا کیا ذریعہ ڈھونڈا۔جستجو ہو، نیک فطرت ہو تو آدمی ہر ذریعہ تلاش کرتا ہے۔انہوں نے یہ کہا۔کہتے ہیں کہ میں تحقیق کرنے کے لئے پہلے اس شخص کے پاس گیا جو چوڑھوں کا با دشاہ کہلاتا ہے یعنی جو کام کرنے والے ہیں ، خاکروب ہیں۔وہ خود تو موجود نہ تھا اس کا بالکہ ملا جو بوڑھا ہو چکا