سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 216

سبیل الرشاد جلد چهارم 216 عہد یداران انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے وحدانیت اور امن کے قیام کی کوشش کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 4 جولائی 2008 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" امن کا قیام بھی مسجدوں سے وابستہ ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ جو مسجد میں اس نیت سے آئے گا کہ خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی عبادت کرنی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کرے گا۔لیکن جولوگ مسجدوں میں آکر بھی بندوں کے حقوق ادا نہیں کرتے وہ عملاً اپنے آپ کو سچی اطاعت سے باہر کر رہے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اپنی کتابوں میں اپنے ملفوظات میں اس قدر دوسروں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ آپ کا سچا پیرو کبھی اس سے صرف نظر کرے۔لیکن افسوس کہ بعض لوگ ، بعض احمدی اس خوبصورت تعلیم سے دُور ہٹتے چلے جارہے ہیں اور پھر دعویٰ یہ ہے کہ ہم احمدی ہیں۔ایک دوسرے پر الزام تراشیاں، جھگڑے، خاص طور پر میاں بیوی کے جھگڑے ہوں تو پورے کا پورا خاندان اس میں ملوث ہو جاتا ہے۔پھر لڑکیوں پر عورتوں پر گندے الزام لگانے سے بھی باز نہیں آتے۔تو اُن کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے لوگ اپنے جائزے لیں، کچھ خدا کا خوف کریں۔مجھے بعض دفعہ شکایات آتی ہیں بعض عہدیدار بھی انصاف کے تقاضے پورے نہ کرتے ہوئے غلط قسم کے لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ان سے بھی میں یہی کہوں گا کہ انصاف کے تقاضے پورے کریں۔اس وحدانیت اور امن کے قیام کی کوشش کریں جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے۔ورنہ عہد کا پاس نہ کرنے والے اور امانت کا حق ادا نہ کرنے والے بلکہ خیانت کرنے والے کہلائیں گے اور ایسے لوگ پھر اگر یہاں کسی پکڑ سے بچ بھی جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے آگے جوابدہ ہیں" (خطبات مسرور جلد 6 صفحہ 268-269) انصار اللہ کے عہد کو معمولی نہ سمجھیں۔یہ ایک بہت بڑا عہد ہے اگر آپ نے اللہ و گواہ شہر ا کر کئے گئے عہد کونہ نبھایا تو آئندہ آنے والی نسلیں آپ کو معاف نہیں کریں گی خلافت جو بلی کے مبارک تاریخی سال میں مجلس انصار اللہ بیــلــجــنــم نے مورخہ 18-19 اکتوبر 2008 ءکو سالانہ اجتماع کا انعقاد کیا۔جس میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جرمنی سے واپسی پر شمولیت فرمائی