سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 217 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 217

سبیل الرشاد جلد چہارم 217 اور 19 اکتوبر کو اختتامی تقریب سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا۔" آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں انصار اللہ کا اجتماع اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔اتفاق سے ان دنوں میرا جرمنی جانے کا پروگرام تھا۔صدر صاحب نے درخواست کی کہ واپسی پر اس اجتماع میں شامل ہو جاؤں تو اس طرح اتفاقا پروگرام بن گیا۔اس جو بلی کے سال ہر جماعت کی خواہش ہے کہ ان کے جلسوں میں میں شامل ہوں لیکن ہر جگہ جاناممکن نہیں ہے۔بہر حال بیجیم کی ایک چھوٹی سی جماعت ہے جس کے انصار اللہ کے اجتماع میں کافی تعداد میں دوسرے بھی آئے ہوئے ہیں تو اس لحاظ سے اس اجتماع میں شمولیت اس سال کے حوالے سے ہو گئی ہے۔اور بیجیم کی بھی نمائندگی ان ملکوں میں ہو گئی ہے یا میرا پروگرام جن ملکوں میں جانے کا بنا ہے بلیجیم بھی ان میں شامل ہو گیا۔جہاں اس سال کے حوالے سے اجتماع یا جلسے میں شامل ہوا ہوں۔حضور انور نے فرمایا کہ یہ سال جو خلافت جوبلی کا سال ہے اس میں ہر ایک کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ خوشی منا لینا، جوبلی منالینا یہ تو دنیا داروں کی طرح ہمارا مقصد نہیں۔اگر اس سال سے صحیح استفادہ کرنا ہے تو پھر اس روح کو تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس کے لئے یہ جوبلی منائی جارہی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے 27 مئی کے جلسہ میں ایک عہد لیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پھیلانا اور خلافت احمد یہ کے قیام کے لئے آخر دم تک کوشش کرنی اور خلافت کے ذریعہ سے اس پیغام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ہے دنیا کے کونے کونے تک پہنچا کر اپنے ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی ہے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا جب تک کہ اس کا حق ادا نہ ہو جائے۔انصار اللہ کے عہد کو معمولی نہ سمجھیں حضور نے فرمایا ابھی آپ نے ایک عہد بھی کیا ہے کہ اسلام اور احمدیت کی مضبوطی اور اشاعت کے لئے آخر دم تک کوشش کروں گا۔نظام خلافت کی حفاظت کے لئے آخر دم تک کوشش کروں گا۔اپنے بچوں میں بھی یہ روح پھونکنے کی کوشش کروں گا تو یہ عہد جو ہے اس کو معمولی عہد نہ سمجھیں۔یہ ایک بہت بڑا عہد ہے۔اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہرا کر ہم یہ عہد کر رہے ہیں اس لئے ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ جو انصار اللہ ہیں اگر آپ نے اپنے اس عہد کو نہ نبھایا، اپنے اس عہد کو نبھانے کے لئے وہ بھر پور کوشش نہ کی جس کی آپ سے توقع کی جاتی ہے تو آئندہ آنے والی نسلیں آپ کو معاف نہیں کریں گی کیونکہ انہوں نے بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا ہے۔جن بچوں کی ، جن نو جوانوں کی تربیت آپ نے کرنی ہے وہ آپ کو الزام دیں گی کہ کیوں ہماری تربیت نہیں کی۔اس لئے یہ یاد رکھیں کہ عہد جو آپ نے کیا ہے اس کو نبھانا آپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔