سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 193 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 193

193 سبیل الرشاد جلد چہارم تم اس چند روزہ دنیا میں ان کی بدخواہی کرو۔خدا تعالیٰ کے فرائض کو دلی خوف سے بجالاؤ کہ تم ان سے پوچھے جاؤ گے۔نمازوں میں بہت دعا کرو کہ تا خدا تمہیں اپنی طرف کھینچے اور تمہارے دلوں کو صاف کرے، کیونکہ انسان کمزور ہے۔ہر ایک بدی جو دُور ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی قوت سے دُور ہوتی ہے۔اپنی طاقت سے کوئی بدی دُور نہیں کر سکتے اس لئے دعائیں مانگو اور جب تک انسان خدا سے قوت نہ پاوے کسی بدی کے دُور کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔اسلام صرف یہ نہیں ہے کہ رسم کے طور پر اپنے تئیں کلمہ گو کہلا ؤ ، بلکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ تمہاری روحیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جائیں اور خدا اور اس کے احکام ہر ایک پہلو کے رو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جا ئیں" ( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 63 مطبوعہ لندن ) یہ ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قائم کردہ معیار جس کی طرف آپ نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔نفسانی کینوں اور غصوں سے الگ ہو جاؤ۔یہ بڑا اچھا موقع اللہ تعالیٰ نے میسر فرمایا ہے اگر ان دنوں میں ہر ایک خود اپنا محاسبہ کرے تو اپنی تصویر خود سامنے آجائے گی۔اگر نیک نیتی سے اپنا محاسبہ کر رہے ہوں گے تو ان نفسانی کینوں اور غصوں کا حال خود معلوم ہو جائے گا۔تکبر سے بچوں“ فرمایا یہ تکبر ہی ہے جو نافرمان بناتا ہے۔تکبر ہی ہے جس نے انبیاء کا انکار کروایا اور یہ تکبر ہی ہے جو نظام جماعت یا عہد یداران کے خلاف دوسرے کو بھڑکاتا ہے اور یہ تکبر ہی ہے جو آپس میں بھی ایک دوسرے سے لڑاتا ہے۔پھر حقیقی ہمدردی اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے پیدا کرو تبھی تمہاری باتوں کا اثر ہوگا تبھی تمہاری تبلیغ مؤثر ہوگی۔کئی لوگ ہمارے جلسوں میں شامل ہوتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی آتے تھے، قادیان کا ماحول دیکھتے تھے اور اس ماحول کا ہی اثر ان پر ہوتا تھا۔ان لوگوں کے اخلاق کا اثر بھی ان لوگوں پر ہوتا تھا جو احمدی ہو جاتے تھے۔اب بھی دنیا کے مختلف ممالک میں جب جماعت کے جلسے ہوتے ہیں اور لوگ آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیک اثر لے کر جاتے ہیں اور بعض ان میں سے پھر بیعت کر کے جماعت میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔تو ہر ایک کو یہ یا درکھنا چاہتے اور ہر ایک کو یہ بات اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے کہ ہر احمدی کے چہرہ کے پیچھے آج احمدیت کا چہرہ ہے۔پس ہمیشہ یاد رکھو تمہارے قول اور عمل میں تضاد نہ ہو تبھی تمہاری دعوت الی اللہ میں برکت پڑے گی۔جماعت کی نیک نامی کا باعث بھی تم تبھی بنو گے جب ہمیشہ سچائی پر قائم ہو گے۔کسی کی برائی نہ چاہو۔ذاتی منفعت اور فائدہ تمہیں کسی سے برائی پر مجبور نہ کرے۔ہمیشہ یادرکھو کہ تمہارے ہر عمل کو خدا دیکھ رہا ہے۔ہر وقت دل میں خدا کا خوف ہو اور اس کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اس کے آگے جھکو اور اپنی عبادتوں کے معیار قائم کرو اور ہمیشہ یاد رکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیعت تمہیں تبھی فائدہ دے گی جب ہر حالت میں تم دین کو دنیا پر مقدم رکھو گے۔صرف دعوے اور نعرے کبھی کام نہیں آئیں گے" (خطبات مسر در جلد 5 صفحہ 357-359)